خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 197
خلافة على منهاج النبوة ۱۹۷ جلد اول۔قرآن شریف میں خدا تعالیٰ کا فروں کو کہتا ہے کہ تم میرے ملنے سے نا امید ہو گئے پس میں نے بھی تم کو ترک کر دیا۔تو وہ شخص جو بار بار مجھے ملتا اور اپنے آپ کو شناخت کراتا ہے وہ اپنے لئے دعا کے لئے بھی یاد دلاتا ہے۔بیشک میں تمام جماعت کے لئے ہمیشہ دعا کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا اور مجھے اپنی دعاؤں کے نیک نتائج نکلنے کی امید ہے۔نا امیدی میری فطرت میں ہی نہیں ہے کیونکہ میری طبیعت خدا تعالیٰ نے ایسی بنائی ہے جو نا امیدی کے الفاظ کوسننا بھی گوارا نہیں کرتی۔مجھے اُس شخص پر بہت غصہ آتا ہے جو خدا تعالیٰ کی نسبت کسی نا امیدی کا اظہار کرے اُس وقت میرے تمام بدن کو آگ لگ جاتی ہے۔نیز میں یہ بات بھی کبھی نہیں سن سکتا کہ فلاں بات ہو نہیں سکتی۔مجھے ایسے لوگوں سے ہمیشہ نفرت رہی ہے اور ہے جو اس قسم کے ہوتے ہیں۔خیر یہ ایک ضمنی بات تھی جو میں نے بیان کر دی ہے۔ہاں آپ لوگوں کو میں نے بتایا ہے کہ خدا سے دور رہنے والے لوگوں کا خدا سے قُرب نہیں ہوتا۔اسی طرح اس کے بندوں سے دور رہنے والا بھی ان کا مقرب نہیں بن سکتا۔وہ دعا ئیں جو میں کرتا ہوں مجملاً ہوتی ہیں اس لئے ان کا اثر اجمالی طور پر سب کو ہوگا مگر فرداً فرداً اسی کیلئے دعا کی تحریک پیدا ہوتی ہے جو بار بار سامنے نظر آئے۔پس اس بات کو مد نظر رکھ کر بھی یہاں آؤ۔پھر قادیان میں نہ صرف قرآن شریف علمی طور پر حاصل ہوتا ہے بلکہ عملی طور پر بھی ملتا ہے۔یہاں خدا کے فضل سے پڑھانے والے ایسے موجود ہیں جو پڑھنے والے کے دل میں داخل کر دیں اور یہ بات کسی اور جگہ حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ تفقہ فی الدین اور چیز ہے اور علم اور چیز۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس کے لئے یہی دعا فرمائی کہ خدا تعالیٰ تمہیں دین کے باریک رازوں سے واقف کرے تفقه فِی الدِّینِ حاصل ہو۔پس ہر ایک وہ شخص جو قرآن شریف پڑھ سکتا ہے وہ عالم ہوسکتا ہے مگر فقیہ نہیں ہوسکتا جب تک کہ قرآن کریم کے بار یک رازوں سے بھی واقف نہ ہو۔ایسے انسان خدا کے فضل۔یہاں موجود ہیں ان سے آپ یہ بات حاصل کریں اور وہ اس طرح کہ بار بار یہاں آئیں کیونکہ وہ وقت عنقریب آنے والا ہے جب کہ آپ دنیا کے پڑھانے والے بنیں گے۔پس جلدی تعلیم حاصل کرو تا کہ دوسروں کو پڑھا سکو۔خدا تعالیٰ کا جن مرکزوں کے ساتھ تعلق ہوتا