خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 187

خلافة على منهاج النبوة ۱۸۷ جلد اول لوگ کر چکے ہیں کیونکہ ان تجربات کا نتیجہ ایسا خطر ناک تھا کہ اگر جوان سنے تو بوڑھا ہو جائے اور اگر سیدھی کمر والا سنے تو اس کی کمر ٹیڑھی ہو جائے اور اگر کالے بالوں والا سنے تو اس کے بال سفید ہو جائیں۔وہ بہت تلخ اور کڑوے تجربے تھے اور از حد دل ہلا دینے والے واقعات تھے وہ نہایت پاک روحوں کے شریروں اور بد باطنوں کے ہاتھ سے قتل کے نظارے تھے۔وہ ایسے درد انگیز حالات تھے کہ جن کو سن کر مؤمن کا دل کانپ جاتا ہے اور وہ ایسے روح فرسا منظر تھے کہ جن کو آنکھوں کے سامنے لانے سے کلیجہ پھٹنے لگتا ہے۔انہی کی سزا میں مسلمانوں میں اس قدر فتنہ اور فساد پڑا کہ جس نے انہیں تباہ کر دیا۔حضرت عثمان کو جو آدمی قتل کرنے آئے تھے اُن کو آپ نے فرمایا کہ اگر تم میرے قتل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یاد رکھنا کہ مسلمان جو اس وقت اس طرح پیوستہ ہیں جیسے دو کنگھیوں کے دندانے ہوتے ہیں بالکل جدا ہو جائیں گے اور ایسے جدا ہوں گے کہ قیامت تک انہیں کوئی نہ اکٹھا کر سکے گا۔حضرت عبد اللہ بن سلام نے بھی اس فتنہ کے بانیوں سے بیان کیا کہ میں نے بنی اسرائیل کی بعض کتب میں دیکھا ہے کہ ایک نبی ہوگا اس کے بعد اس کے خلفاء ہوں گے اس کے خلیفہ ثالث کے خلاف لوگ فساد کریں گے اگر وہ اس کے مارنے پر کامیاب ہو گئے تو اس کی سزا ان کو یہ دی جائے گی کہ وہ ہمیشہ کے لئے پراگندہ کر دیئے جائیں گے اور پھر کوئی تدبیر ان کو جمع نہ کر سکے گی چنانچہ ایسا ہی ہوا۔یہ فتنہ اتنا پھیلا اتنا پھیلا کہ سوائے مسیح موعود علیہ السلام کے کوئی اس کو روک نہ سکا اور مسلمان جو ٹوٹ چکے تھے انہیں کوئی نہ جوڑ سکا۔پس | تم لوگ یا د رکھو کہ آنے والا فتنہ بہت خطرناک ہے اس سے بچنے کے لئے بہت بہت تیاری کرو۔پہلوں سے یہ غلطیاں ہوئیں کہ اُنہوں نے ایسے لوگوں کے متعلق حسن ظنی سے کام لیا جو بدظنیاں پھیلانے والے تھے۔حالانکہ اسلام اُس کی حمایت کرتا ہے جس کی نسبت بدظنی پھیلائی جاتی ہے اور اُس کو جھوٹا قرار دیتا ہے جو بدظنی پھیلاتا ہے اور جب تک کہ با قاعدہ تحقیقات پر کسی شخص پر کوئی الزام ثابت نہ ہو اُس کا پھیلانے والا اور لوگوں کو سنانے والا اسلام کے نزدیک نہایت خبیث اور متفی ہے۔پس تم لوگ تیار ہو جاؤ تا کہ تم بھی اس قسم کی کسی غلطی کا شکار نہ ہو جاؤ کیونکہ اب تمہاری