خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 188
خلافة على منهاج النبوة ۱۸۸ جلد اول فتوحات کا زمانہ آ رہا ہے اور یا درکھو کہ فتوحات کے زمانہ میں ہی تمام فسادات کا بیج بویا جاتا ہے۔جو اپنی فتح کے وقت اپنی شکست کی نسبت نہیں سوچتا اور اقبال کے وقت ادبار کا خیال نہیں کرتا اور ترقی کے وقت تنزل کے اسباب کو نہیں مٹاتا اس کی ہلاکت یقینی اور اس کی تباہی لازمی ہے۔نبیوں کی جماعتیں بھی اس فساد سے خالی نہیں ہوتیں اور وہ بھی جب ترقی کرتی ہیں اور ایسے لوگ ان میں داخل ہوتے ہیں جنہوں نے نبی کی صحبت نہیں پائی ہوتی اور ان کا ایمان اتنا مضبوط نہیں ہوتا جتنا ان لوگوں کا ہوتا ہے جو نبی کی صحبت میں رہے ہوتے ہیں اور جن کی تربیت بوجہ اس کے کہ وہ جماعت در جماعت آ کر داخل ہوئے ہوتے ہیں نامکمل ہوتی ہے تو ان میں بھی فساد شروع ہو جاتا ہے جو آخر کار ان کو مختلف جماعتوں میں تقسیم کر کے ان کے اتحاد کو توڑ دیتا ہے یا ان کی جڑ کو ایسا کھوکھلا کر دیتا ہے کہ آئندہ ان کی روحانی طاقتیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ہماری جماعت کی ترقی کا زمانہ بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت قریب آ گیا ہے اور وہ دن دور نہیں جب کہ افواج در افواج لوگ اس سلسلہ میں داخل ہوں گے۔مختلف ملکوں سے جماعتوں کی جماعتیں داخل ہوں گی اور وہ زمانہ آتا ہے کہ گاؤں کے گاؤں اور شہر کے شہر احمدی ہوں گے اور ابھی سے مختلف اطراف سے خوشخبری کی ہوائیں چل رہی ہیں اور جس طرح خدا کی یہ سنت ہے کہ بارش سے پہلے ٹھنڈی ہوائیں چلاتا ہے تا کہ غافل لوگ آگاہ ہو جائیں اور اپنے مال و اسباب کو سنبھال لیں اسی طرح خدا تعالیٰ نے ہماری ترقی کی ہوائیں چلا دی ہیں پس ہوشیار ہو جاؤ۔آپ لوگوں میں سے خدا کے فضل سے بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت پائی ہے ، آپ کے منہ سے باتیں سنی ہیں ، آپ سے ہم کلامی کا شرف حاصل کیا ہے۔ان کا فرض ہے کہ وہ آنے والوں کے لئے ہدایت اور راہنمائی کا باعث ہوں۔کیونکہ کوئی ایک شخص بہتوں کو نہیں سکھا سکتا۔دیکھو اسی جلسہ پر خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنے لوگ آئے ہیں کہ ان سب تک مشکل سے میری آواز پہنچ سکتی ہے مگر جب لاکھوں اور کروڑوں انسان آئے تو انہیں کو ن ایک شخص سنا سکے گا۔لیکن بتلا ؤ اگر ایک ہی سنانے والا ہوا تو یہ کیسا دردناک نظارہ ہو گا کہ کچھ لوگ تو سن رہے ہوں گے اور کچھ لوگ پکوڑے کھا رہے ہوں گے۔وہ سنیں گے کیا اور یہاں سے لے کر