خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 185

خلافة على منهاج النبوة ۱۸۵ جلد اول کرامت تھی کہ وہ لوگ حضرت عثمان کے خلاف نہیں اُٹھے تھے۔کیونکہ گو یہ ملک آپ کے زمانہ میں فتح نہ ہوا لیکن آپ نے اس پر بھی چڑھائی کی تھی۔جس کا ذکر قرآن شریف کی سورۃ تو بہ میں ان تین صحابہ کا ذکر کرتے ہوئے جو اس سفر میں شامل نہ ہوئے تھے آیا ہے۔پس شام کا اس فتنہ میں شامل نہ ہونا امیر معاویہ کی دانائی کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ اس لئے تھا کہ وہاں اسلام کا پیج رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بویا گیا اور اس سرزمین میں آپ نے اپنا قدم مبارک ڈالا تھا۔پس خدا تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں میں اس ملک کو بھی شامل کر لیا۔اتنے بڑے فتنہ میں اس قدرصحابہ میں سے صرف تین صحابہ کے شامل ہونے کا پتہ لگتا ہے اور ان کی نسبت بھی ثابت ہے کہ صرف غلط فہمیوں کی وجہ سے شامل ہو گئے تھے اور بعد میں تو بہ کر لی تھی تو یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایسی خصوصیت ہے جو کسی اور نبی کو حاصل نہیں ہوئی۔اس لئے جہاں آپ کی فتح کا ذکر آیا ہے وہاں ساتھ ہی استغفار کا حکم بھی آیا ہے جو آپ کو اس طرف متوجہ کرنے کے لئے تھا کہ دیکھنا ہم آپ کو بہت بڑی فتح اور عزت دینی چاہتے ہیں اور بے شمار لوگوں کو آپ کے ساتھ شامل کرنا چاہتے ہیں۔پس یاد رکھو کہ جب تمہارے بہت سے شاگرد ہو جائیں تو تم خدا کے حضور گر جانا اور کہنا کہ الہی ! اب کام انسانی طاقت سے بڑھتا جاتا ہے آپ خود ہی ان نو واردوں کی اصلاح کر دیجئے۔ہم آپ کی دعا قبول کریں گے اور ان کی اصلاح کر دی جائے گی اور ان کی کمزوریوں اور بدیوں کو دور کر کے ان کو پاک کر دیا جائے گا۔لیکن ان سب باتوں کو ملانے سے جہاں ایک طرف یہ اعتراض مٹ جاتا ہے کہ آپ کسی گناہ کے مرتکب نہیں ہوئے وہاں دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت ایک قوم ترقی کرتی اور کثرت سے پھیلتی ہے وہی زمانہ اُس کے تنزل اور انحطاط کا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے فتح کے ساتھ ہی استغفار کا ارشاد فرمایا ہے کیونکہ کسی قوم کے بڑھنے اور ترقی کرنے کا جو وقت ہوتا ہے وہی وقت اُس کے تنزل کے اسباب کو بھی پیدا کرتا ہے اور جب کوئی قوم بڑھ جاتی ہے اُسی وقت اس میں فساد اور فتنے بھی شروع ہو جاتے ہیں۔جس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ قوم میں ایسے لوگ آ جاتے ہیں جو نبی کی خدمت اور صحبت میں نہیں رہے ہوتے ، اچھی طرح