خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 184
خلافة على منهاج النبوة ۱۸۴ جلد اول اور قوت کے باوجود اس کے حکم کی فرمانبرداری نہ کی جائے اور وہ بات جس کی خدا تعالیٰ کی طرف سے طاقت ہی نہ دی جائے اس کا نہ کر سکنا گناہ نہیں ہوتا بلکہ وہ بشری کمزوری کہلاتی ہے۔مثلاً ایک شخص بیمار ہو جاتا ہے تو یہ اس کا گناہ نہیں بلکہ ایک کمزوری ہے جو بشریت کی وجہ سے اسے لاحق ہے۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ گناہ نہ تھا کہ آپ اس قدر زیادہ لوگوں کو پڑھا نہ سکتے تھے بلکہ خدا تعالیٰ نے ہی آپ کو ایسا بنایا تھا اور آپ کے ساتھ یہ ایسی بات لگی ہوئی تھی جو آپ کی طاقت سے بالا تھی اس لئے آپ کو بتایا گیا کہ آپ خدا تعالیٰ کے حضور کثرت طلباء کی وجہ سے جو نقص تعلیم میں ہونا تھا اس کے دور کرنے کے لئے دعا کریں۔پس ان تمام آیات سے پتہ لگتا ہے کہ ان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گناہ کا اظہار نہیں ہے بلکہ ایک بشری کمزوری کے بدنتائج سے بچنے کی آپ کو راہ بتائی گئی ہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ آپ کے وقت کثرت سے لوگ ایمان لے آئے مگر ابتلاؤں اور فتنوں کے وقت ان کا ایمان خراب نہ ہوا اور وہ اس نعمت سے محروم نہ ہوئے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو لوگ ایمان لائے تھے آپ کے بعد گوان میں سے بھی کچھ مرتد ہو گئے مگر جھٹ پٹ ہی واپس آ گئے اور ان فتنہ وفسادوں میں شامل نہ ہوئے جو اسلام کو تباہ کرنے کے لئے شریروں اور مفسدوں نے بر پاکئے تھے۔چنانچہ حضرت عثمان کے زمانہ میں جو بہت بڑا فساد ہوا اس میں عراق ، مصر، کوفہ اور بصرہ کے لوگ تو شامل ہو گئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ایمان لائے تھے لیکن یمن ، حجاز اور نجد کے لوگ شامل نہ ہوئے۔یہ وہ ملک تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں فتح ہوئے تھے۔جانتے ہو اس کی کیا وجہ ہے کہ وہ خفیہ منصوبے جو مسلمانوں کی تباہی کا موجب ہوئے ان میں وہ ممالک تو شامل ہو گئے جو آپ کی وفات کے بعد فتح ہوئے مگر وہ ملک شامل نہ ہوئے جو آپ کے زمانہ میں فتح ہوئے تھے۔اس کی یہی وجہ ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان ملکوں کے لوگوں کی جو آپ کے زمانہ میں اسلام لائے تھے بُرائیاں اور بدیاں دور کر دی تھیں۔لوگ تو کہتے ہیں کہ امیر معاویہ کا زور اور طاقت تھی کہ شام کے لوگ اس فتنہ میں شامل نہ ہوئے لیکن میں کہتا ہوں کہ یہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی۔