خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 183
خلافة على منهاج النبوة ۱۸۳ جلد اول زمانہ میں کوئی مسلمان یمن میں تھا کوئی شام میں کوئی عراق میں تھا کوئی بحرین میں اور کوئی نجد میں تھا اس لئے نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر ایک کے پاس پہنچ سکتے تھے اور نہ وہ آپ تک آ سکتے تھے۔جب حالت یہ تھی تو ضرور تھا کہ آپ کی تعلیم میں نقص رہ جاتا لیکن آپ کا دل کبھی یہ برداشت نہ کر سکتا تھا اس لئے آپ کو حکم ہوا کہ خدا سے دعا کرو کہ اے خدا ! اب یہ کام میرے بس کا نہیں اس لئے تو ہی اسے پورا کر۔کیونکہ شاگرد بہت ہیں اور میں اکیلا مدرس ہوں مجھ سے ان کی تعلیم کا پورا ہونا مشکل ہے۔آجکل تو سکولوں میں یہ قاعدہ ہو گیا ہے کہ ایک استاد کے پاس چالیس یا پچاس سے زیادہ لڑ کے نہ ہوں اور اس سے زیادہ لڑکوں کو جماعت میں داخل نہ کیا جائے اور اگر کیا جائے تو ایک اور استاد رکھا جائے کیونکہ افسرانِ تعلیم جانتے ہیں کہ اگر ایک جماعت میں بہت زیادہ لڑکے ہوں اور ایک اکیلا استاد پڑھانے والا ہو تو لڑکوں کی تعلیم ناقص رہ جاتی ہے۔چنانچہ جن سکولوں میں بہت سے لڑکے ہوتے ہیں اور ایک استاد وہاں کے لڑکوں کی تعلیمی حالت بہت کمزور ہوتی ہے کیونکہ زیادہ لڑکوں کی وجہ سے استاد ہر ایک کی طرف پوری پوری توجہ نہیں کر سکتا۔تو چونکہ فتح کے وقت لاکھوں انسان مسلمان ہو کر اسلام میں داخل ہوتے تھے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خطرہ دامن گیر ہوا کہ مسلمان تعلیم میں ناقص نہ رہ جائیں۔خدا تعالیٰ نے آپ کو اس کے متعلق یہ گر بتا دیا کہ خدا کے آگے گر جاؤ اور اُسی کو کہو کہ آپ ہی اس کام کو سنبھالے کہ میری طاقت سے تو اس کا سنبھالنا با ہر ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق استغفار کا لفظ اسی لئے استعمال کیا گیا ہے کہ آپ کو اس بات کی طرف متوجہ کیا جائے کہ اسلام میں کثرت سے داخل ہونے والے لوگوں کی تعلیم و تربیت کے لئے آپ خدا تعالیٰ سے دعا کریں اور التجا کریں کہ اب لوگوں کے کثرت سے آنے سے جو بدنتائج نکلیں گے ان سے آپ ہی بچائیے اور ان کو خود ہی دور کر دیجئے۔اور آپ کا لاکھوں انسانوں کو ایک ہی وقت میں پوری تعلیم نہ دے سکنا کوئی گناہ نہیں بلکہ بشریت کا تقاضا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آپ کی نسبت ذنب کا لفظ استعمال تو ہوا ہے لیکن جناح کا لفظ کبھی استعمال نہیں ہوا۔گناہ اسے کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت