خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 182
خلافة على منهاج النبوة ۱۸۲ جلد اول جماعت سبق لینے کے لئے کھڑی ہو تو ضرور ہو گا کہ اس کی تعلیم میں نقص رہ جائے اور پوری طرح علم نہ حاصل کر سکے۔یا یہ ہوگا کہ بعض تو پڑھ جائیں گے اور بعض کی تعلیم ناقص رہ جائے گی اور بعض بالکل جاہل کے جاہل ہی رہ جائیں گے اور کچھ تعلیم نہ حاصل کرسکیں گے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب فتوحات پر فتوحات ہونی شروع ہوئیں اور بے شمار لوگ آپ کے پاس آنے لگے تو ان کے دل میں جو بڑا ہی پاک دل تھا یہ گھبرا ہٹ پیدا ہوئی کہ ان تھوڑے سے لوگوں کو تو میں اچھی طرح تعلیم دے لیتا ، قرآن سکھا سکتا تھا ( چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بڑی پابندی سے صحابہ کو قرآن سکھاتے تھے ) لیکن یہ جو لاکھوں انسان اسلام میں داخل ہورہے ہیں ان کو میں کس طرح تعلیم دوں گا اور مجھ میں جو بوجہ بشریت کے یہ کمزوری ہے کہ اتنے کثیر لوگوں کو تعلیم نہیں دے سکتا اس کا کیا علاج ہوگا۔اس کا جواب سورۃ نصر میں خدا تعالیٰ نے یہ دیا کہ اس میں شک نہیں کہ جب فتح ہوگی اور نئے نئے لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہوں گے تو ان میں بہت سی کمزوریاں ہوں گی اور یہ بھی سچ ہے کہ وہ سب کے سب تجھ سے تعلیم نہیں پا سکتے مگر ان کو تعلیم دلانے کا یہ علاج ہے کہ تو خدا سے دعا مانگے کہ اے خدا ! مجھ میں بشریت کے لحاظ سے یہ کمزوری ہے کہ اتنے لوگوں کو تعلیم نہیں دے سکتا تو میری اس کمزوری کو ڈھانپ دے اور وہ اس طرح کہ ان سب لوگوں کو خود ہی تعلیم دے دے اور خود ہی ان کو پاک کر دے۔پس یہی وہ بات ہے جس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو استغفار کرنے کا ارشاد ہوا ہے۔ذنب کے معنی ایک زائد چیز کے ہیں اور غفر ڈھانکنے کو کہتے ہیں۔اس سے خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات سکھائی ہے کہ تم یہ کہو کہ میں اس قدر لوگوں کو کچھ نہیں سکھا سکتا پس آپ ہی ان کو سکھائیے اور میری اس انسانی کمزوری کو ڈھانپ دیجئے۔دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ابتدائی زمانہ میں ایک ایک سے اپنے ہاتھ پر ہاتھ رکھا کر بیعت لیتے تھے پھر ترقی ہوئی تو لوگ ایک دوسرے کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت کرنے لگے۔پھر حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کے زمانہ میں تو پگڑیاں پھیلا کر بیعت ہوتی تھی اور اب بھی اسی طرح ہوتی ہے۔تو ایک آدمی ہر طرف نہیں پہنچ سکتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے