خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 181
خلافة على منهاج النبوة TAI جلد اول تمہارے دشمن مغلوب ہو گئے اس لئے تمہارے دنیا سے رخصت ہونے کا وقت آ گیا ہے پس تو تو بہ اور استغفار کر کیونکہ تیری موت کے دن قریب آگئے ہیں۔اور گو یہ استدلال درست ہے لیکن ان معنوں پر بھی وہ اعتراض قائم رہتا ہے کہ آپ نے کوئی گناہ کئے ہی ہیں اسی لئے تو بہ کا حکم ہوتا ہے۔میں نے جب ان آیات پر غور کیا تو خدا تعالیٰ نے مجھے ایک عجیب بات سمجھائی اور وہ یہ کہ جب کسی قوم کو فتح حاصل ہوتی ہے اور مفتوح قوم کے ساتھ فاتح قوم کے تعلقات قائم ہوتے ہیں تو ان میں جو بدیاں اور بُرائیاں ہوتی ہیں وہ فاتح قوم میں بھی آنی شروع ہو جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ فاتح قوم جن ملکوں سے گزرتی ہے ان کے عیش وعشرت کے جذبات اپنے اندر لیتی جاتی ہے۔اور چونکہ عظیم الشان فتوحات کے بعد اس قدر آبادی کے ساتھ فاتح قوم کا تعلق ہوتا ہے جو فاتح سے بھی تعداد میں زیادہ ہوتی ہے اس لئے اس کو فوراً تعلیم دینا اور اپنی سطح پر لانا مشکل ہوتا ہے اور جب فاتح قوم کے افراد مفتوح قوم میں ملتے ہیں تو بجائے اُس کو نفع پہنچانے کے خود اس کے بداثرات سے متاثر ہو جاتے ہیں جس کا نتیجہ رفتہ رفتہ نہایت خطرناک ہوتا ہے۔جب اسلام کی فتوحات کا زمانہ آیا تو اسلام کیلئے بھی یہی مشکل در پیش تھی گوا سلام ایک نبی کے ماتحت ترقی کر رہا تھا لیکن نبی با وجود نبی ہونے کے پھر انسان ہی ہوتا ہے اور انسان کے تمام کام خواہ کسی حد تک وسیع ہوں محدود ہی ہوتے ہیں۔ایک استاد خواہ کتنا ہی لائق ہو اور ایک وقت میں تیس چالیس نہیں بلکہ سو سوا سولڑکوں تک کو بھی پڑھا سکتا ہو لیکن اگر اس کے پاس ہزار دو ہزار لڑکے لے آئیں تو نہیں پڑھا سکے گا۔رسول بھی استاد ہی ہوتے ہیں جیسا کہ قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت آیا ہے يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أيتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب والْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ کے کہ اس رسول کا یہ کام ہو کہ وہ خدا تعالیٰ کی آیتیں لوگوں کو سنائے کتاب کی تعلیم دے اور ان کو پاک کرے۔غرض نبی ایک استاد ہوتا ہے اس کا کام تعلیم دینا ہوتا ہے۔اس لئے وہ تھوڑے لوگوں کو ہی دے سکتا ہے کیونکہ لاکھوں اور کروڑوں انسانوں کو سبق دینا اور پھر یا د بھی کروا دینا کسی انسان کا کام نہیں ہو سکتا۔پس جب کسی کے سامنے لاکھوں اور کروڑوں انسانوں کی