خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 2

خلافة على منهاج النبوة جلد اول آپ نے لکھا ہے کہ مولوی نورالدین صاحب بھی اس سلسلہ کے اصل مرکز تھے اور آج اُن کی مدت کی خواہش بر آئی کہ وہ خلیفہ بن گئے تو آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ مولوی صاحب نے اپنے پہلے ہی خطبہ میں اس بات کا اقرار کیا تھا کہ میرے دل میں بھی اس عہدہ کا خیال تک نہیں آیا۔چنانچہ اس بات کے ہم لوگ گواہ ہیں کیونکہ کسی شخص کے پاس رہنے والے اُس کی عادات کو بہ نسبت دُور کے رہنے والوں اور بے تعلقوں کے زیادہ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں اور حالات بھی ایسے ہیں کہ ہر ایک عظمند سمجھ سکتا ہے کہ یہ سلسلہ مشورہ اور منصوبہ سے نہیں بنا بلکہ خدا تعالیٰ کے ارادہ کے ماتحت بنا ہے۔چنانچہ حضرت صاحب کی وفات پر بہت سے دانا اور چشم بصیرت رکھنے والے مخالفوں تک نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ یہ سلسلہ منصوبوں کا نتیجہ نہ تھا۔ہاں ایک آپ کی متعصب آنکھ تھی جو نہ دیکھ سکی۔سو یا د رہے کہ اعتراض بغیر دلیل کے کوئی وقعت نہیں رکھتا بلکہ اگر کوئی شخص تعصب سے اعتراض کرے تو نَعُوذُ بالله حضرت علی پر زیادہ اعتراض کر سکتا ہے کہ وہ خلافت لینا چاہتے تھے اور مدت سے اُن کے دل میں یہ بات پوشیدہ تھی۔چنانچہ بقول آپ لوگوں کے انہوں نے اسی غصہ میں حضرت ابوبکر کی بیعت بھی چھ مہینے تک نہیں کی اور کی بھی تو تقیہ کے طور پر۔پس ہر ایک اعتراض کرتے وقت دلائل ساتھ دینے چاہئیں تاکہ عقلمندوں میں رُسوائی نہ ہو۔تشخید الا ذہان۔اگست ستمبر ۱۹۰۸ ء )