خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 1
خلافة على منهاج النبوة جلد اول بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ عصر جدید حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر بعض مخالف اخباروں کی آراء حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب نے رسالہ تشحمید الا ذہان میں درج فرمائیں اور اس میں بیان کردہ غلط باتوں کی درستگی بھی ساتھ ساتھ فرمائی۔ان اخبارات و رسائل میں سے ایک رسالہ ” عصر جدید لکھنو کے نام سے شائع ہوتا تھا اس کے بارے میں آپ نے 66 فرمایا :۔ر ساله عصر جدید کے پرچہ ماہ جون میں ایک مضمون جس کا ہیڈ نگ الانصاف“ تھا نکلا ہے جس میں صاحب مضمون نے جو اپنا نام بتا نا تقیہ کے بر خلاف سمجھتے ہیں قادیانی جماعت کے خاتمہ پر بحث کی ہے۔اس مضمون کا جواب لکھنے سے پہلے میں اس قد ر لکھنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ایڈیٹر عصر جدید کو احمدی جماعت سے ہمیشہ دلچپسی رہی ہے اور جب کبھی آپ سے ہوسکا آپ نے کوشش کی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور اُن کے پیروان پر کوئی ذلیل نیش زنی کریں۔چنانچہ آپ کے ایک دو مضامین کا جواب رسالہ ریویو آف ریلیجنز میں شائع بھی ہو چکا ہے چونکہ آپ کا مذہب شیعہ ہے اس لئے بیجا طعن وتشنیع سے کچھ پر ہیز نہیں۔غرض یہ مضمون ان کے کسی ہم خیال کی طرف سے جس نے اپنا نام ”ماوروں را بنگریم و حال را بتایا ہے شائع ہوا ہے اور آپ نے اُس کے کسی خیال کی تردید نہیں کی۔مضمون متانت سے بالکل گرا ہوا اور تہذیب سے کوسوں دُور ہے اور ناول کی طرز پر زید اورعبداللہ کی گفتگو کے پیرا یہ میں ہے۔اگر راقم مضمون واقعی عبداللہ ہیں اور وہی عبد اللہ جن کو مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اسیح کے برخلاف لکھنا شرعاً و انصافاً کسی طرح بھی جائز نہیں۔