خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 180

خلافة على منهاج النبوة ۱۸۰ جلد اول ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پہلے اس کا جواب دینے میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔یہی وجہ تھی کہ ہزار ہا مسلمانوں کی اولا د عیسائی ہوگئی اور تو اور سیدوں کی اولا دوں نے بھی بپتسمہ لینا پسند کر لیا اور وہ اب سٹیجوں پر کھڑے ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے ہیں۔غرض ان الفاظ کی وجہ سے نادانوں نے دھوکا کھایا اور بجائے اس کے کہ عیسائیوں کو جواب دیتے خود عیسائی بن گئے۔قرآن شریف پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اُن معنوں کے لحاظ سے استعمال نہیں کیا گیا جن معنوں میں عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔آپ کے متعلق اور معنوں میں استعمال ہوا ہے اور یہ بات اس طرح معلوم ہوتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ذُنُسب کا لفظ قرآن شریف میں تین جگہ آیا ہے۔اوّل سورہ مومن میں جہاں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔قاضيراتٌ وَعَدَ اللهِ حَقٌّ وَاسْتَغفِريدَ نَبِكَ وَسَبِّحُ بِحَمْدِ رَبِّكَ بالعشي والا نگار کے دوم سورہ محمد میں یوں آیا ہے۔فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤمِنتِ، وَالله يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ و متوسكُم سوم سورہ فتح میں آیا ہے انا فتحنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنَاكَ الْيَغْفِرَ لَكَ الله ما تقدم مِن ذَنْبِكَ وَ مَا تَاَخَرَوَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمات ل اسی طرح بعض جگہ پر استغفار کا لفظ آپ کی نسبت استعمال ہوا ہے جیسا کہ اسی سورۃ میں جو میں نے ابھی پڑھی ہے۔ان سب جگہوں پر اگر ہم غور کریں تو ایک ایسی عجیب بات معلوم ہوتی ہے جو سارے اعتراضوں کو حل کر دیتی ہے اور وہ یہ کہ ان سب جگہوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کے ہلاک ہونے اور آپ کی فتح کا ذکر ہے۔پس اس جگہ بالطبع یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ کی فتح اور آپ کے دشمنوں کی مغلوبیت کے ساتھ گناہ کا کیا تعلق ہے۔اور یہی بات ہے جس کے بیان کرنے کیلئے میں نے یہ سورۃ پڑھی ہے اور جس سے ہمیں اقوام کے تنزل و ترقی کے قواعد کا علم ہوتا ہے۔بعض لوگوں نے ان آیات کے یہ معنی کئے ہیں کہ خدا تعالیٰ آپ کو یہ فرماتا ہے کہ اب تمہاری فتح ہوگئی اور