خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 179

خلافة على منهاج النبوة جلد اول اور بدیوں میں گرفتار شدہ انسانوں کو پاک وصاف کرنے آیا تھا اور جس کا درجہ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله سب لوگوں کو کہہ دے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو۔اس کا یہ نتیجہ ہوگا کہ تم خدا تعالیٰ کے محبوب اور پیارے بن جاؤ گے۔پھر وہ جس کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے لقد كان لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أسْوَةٌ حَسَنة ٣ کہ اس رسول میں تمہارے لئے پورا پورا نمونہ ہے۔اگر تم خدا کے حضور مقبول بننا چاہتے ہو ، اگر تم خدا سے تعلق پیدا کرنا پسند کرتے ہو تو اس کا آسان طریق یہ ہے کہ اس رسول کے اقوال، افعال اور حرکات وسکنات کی پیروی کرو۔کیا اس قسم کا انسان تھا کہ وہ بھی گناہ کرتا تھا اور اسے بھی استغفار کرنے کی ضرورت تھی ؟ جس رسول کی یہ شان ہو کہ اس کا ہر ایک قول اور فعل خدا کو پسند یدہ ہوکس طرح ہوسکتا ہے کہ اُس کی نسبت یہ کہا جائے کہ تو اپنے گناہوں کی معافی مانگ۔اگر وہ بھی گناہ گار ہوسکتا ہے تو خدا تعالیٰ نے اُس کی اتباع کی دوسروں کو کیوں ہدایت فرمائی ہے۔ہم اس بات کو ثابت کر سکتے ہیں کہ آپ ہر ایک قسم کی بدی اور گناہ سے پاک تھے۔یہی تو وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اے لوگو! اگر تمہیں مجھ سے محبت کا دعوئی ہے اور میرے محبوب بننا چاہتے ہو تو اس کا ایک ہی طریق ہے کہ تم اس رسول کی اتباع کرو۔اور نہ ممکن نہیں کہ تم میرے قرب کی کوئی راہ پا سکو۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کسی گناہ کا منسوب کر نا تعلیم قرآن کے بالکل خلاف ہے مگر کوئی کہہ سکتا ہے کہ پھر آپ کے متعلق یہ کیوں آیا ہے کہ تو استغفار کر ، استغفار کر ، یہاں یہ بات بھی یا درکھنی چاہئے کہ انہی الفاظ کو مدنظر رکھ کر عیسائی صاحبان بھی مسلمانوں پر ہمیشہ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ تمہارا رسول گناہ گار تھا کیونکہ قرآن اس کو حکم دیتا ہے کہ تو استغفار کر۔لیکن ہمارے مسیح کی نسبت قرآن میں یہ کہیں نہیں آیا پس معلوم ہوا کہ تمہارا رسول گناہ کرتا تھا۔اور بعض جگہ تو تمہارے رسول کی نسبت کا لفظ بھی آیا ہے تو معلوم ہوا کہ تمہارا رسول گناہ گار تھا اور ہمارا مسیح گنا ہوں سے پاک۔اس سے ثابت ہو گیا کہ مسیح کا درجہ اس سے بہت بلند ہے۔اس اعتراض کے جواب میں مسلمانوں کو بڑی دقت پیش آئی ہے اور گو اُنہوں نے جواب دینے کی بڑی کوشش کی