خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 178
خلافة على منهاج النبوة ۱۷۸ جلد اول اسی حصہ کو بیان کرتا ہوں۔وہ دوسرا حصہ جس کو میں اس وقت بیان کرنا چاہتا ہوں اس کے متعلق میں نے ایک مختصر سی سورۃ پڑھی ہے جو گو عبارت کے لحاظ سے بہت مختصر ہے لیکن مضامین کے لحاظ سے بہت وسیع باتیں اپنے اندر رکھتی ہے اور حکمت اور معرفت کے بڑے بڑے دریا اس کے اندر بہہ رہے ہیں۔نیز اس سورۃ میں خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو وہ بات بتائی ہے کہ اگر وہ اس پر غور وفکر اور عملدرآمد کرتے تو ان پر وہ ہلاکت اور تباہی کبھی نہ آتی جو آج آئی ہوئی ہے اور نہ مسلمان پراگندہ ہوتے۔نہ ان کی حکومتیں جاتیں نہ اس قدرکشت و خون کی نوبت پہنچتی اور نہ ان میں تفرقہ پڑتا۔اور اگر پڑتا تو اتنا جلدی اور اس عمدگی سے زائل ہو جا تا کہ اس کا نام ونشان بھی باقی نہ رہتا۔لیکن افسوس کہ ان میں وہ تفرقہ پڑا جو باوجود گھٹانے کے بڑھا اور باوجود دبانے کے اُٹھا اور با وجود مٹانے کے اُبھرا اور آخر اس حد تک پہنچ گیا کہ آج مسلمانوں میں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں فرقے موجود ہیں۔کیونکہ وہ بند جس نے مسلمانوں کو باندھا ہوا تھا کاٹا گیا اور اس کے جوڑنے والا کوئی پیدا نہ ہوا۔بلکہ دن بدن وہ زیادہ سے زیادہ ہی ٹوٹتا گیا۔حتی کہ تیرہ سو سال کے دراز عرصہ میں جب بالکل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تو خدا تعالیٰ نے اپنے پاس سے ایک شخص کو اس لئے بھیجا کہ وہ آ کر اس کو جوڑے۔اس فرستادہ خدا سے پہلے کے تمام مولویوں، گدی نشینوں ، بزرگوں اور اولیاؤں نے بڑی بڑی کوششیں کیں مگر ا کارت گئیں اور اسلام ایک نقطہ پر نہ آیا ، پر نہ آیا۔اور کس طرح آ سکتا تھا جب کہ اس طریق سے نہ لایا جاتا جو خدا تعالیٰ نے مقرر کیا تھا یعنی کسی مامور من اللہ کے ذریعے سے۔غرض اس سورۃ میں خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک آنے والے فتنہ پر آگاہ فرمایا ہے اور اس سے بچنے کا علاج بھی بتایا ہے۔اس سورۃ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تاکید کی گئی ہے کہ آپ استغفار کریں۔چونکہ استغفار کے معنی عام طور پر اپنے گنا ہوں کی معافی مانگنے کے ہوتے ہیں اس لئے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ شخص جو دنیا کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے آیا تھا ، گمراہ اور بے دین لوگوں کو با خدا بنانے آیا تھا ، گنا ہوں