خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 171
خلافة على منهاج النبوة جلد اول حضرت ! آپ تو ابو بکر کی بیعت کر چکے ہیں ان کے مقرر کردہ کمانڈر کو کیوں معزول کرتے ہیں۔اے کاش! کہ ہر اعتراض کے پیش کرنے سے پہلے یہ غور بھی کر لیا جایا کرے کہ ہم کیسی بے وقعت باتوں سے اپنے دعوے کو ثابت کرنا چاہتے ہیں۔پھر سینے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کوئی ایسا اعتراض نہیں ہونے دیا جو پہلوں پر نہ پڑتا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر جو پہلا اجلاس مجلس معتمدین کا ہوا تھا اور جس میں آپ بھی شریک تھے اس میں مولوی محمد علی صاحب کی ایک تحریک پیش ہو کر جو فیصلہ ہوا اُس کے الفاظ یہ ہیں۔کی درخواست مولوی محمد علی صاحب کہ کچھ مساکین کا کھانا حضرت اقدس نے لنگر خانہ سے بند کر کے ان میں سے بعض کے لئے لکھا ہے کہ مجلس انتظام کرے۔پیش ہو کر قرار پایا کہ اب حسب احکام حضرت خلیفہ اسیح الموعود علیہ السلام لنگر کی حالت دگرگوں ہوگئی ا ہے اس لئے اس کا غذ کو داخل دفتر کیا جائے“۔کیا حضرت صاحب کی وفات پر پہلے ہی اجلاس میں مجلس معتمدین نے جس میں آپ بھی حاضر تھے اس حکم کے خلاف نہ کیا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیا تھا ؟ آپ شاید کہیں گے کہ ہم نے خود وجہ بھی لکھ دی تھی کہ حالات دگرگوں ہو گئے اس لئے اس حکم کو تبدیل کر دیا گیا یہی جواب آپ اپنے اعتراض کا سمجھ لیں۔جب مسیح موعود علیہ السلام کے حکم کو حالات کے بدل جانے سے بدلا جا سکتا ہے تو کیوں حضرت خلیفہ اول کے احکام کو نہیں بدلا جا سکتا۔حضرت کی وفات کے بعد یہاں آدمیوں کی ضرورت تھی اس لئے میں نے اُن کو روک دیا۔پھر لعل شاہ صاحب برق کے متعلق جو فیصلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تھا اُس کو آپ کی ہی تحریک پر حضرت خلیفہ اول نے بدل دیا یا نہیں اور مولوی شیر علی صاحب کے معاملہ میں تو ایک فرق بھی ہے اور وہ یہ کہ مولوی صاحب نے اپنی رخصت آپ منسوخ کروائی تھی نہ کہ میں نے منسوخ کی تھی۔ایک بات آپ اور بھی لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح کا نام کاٹ دیا گیا۔مجھے تعجب ہے کہ ایک طرف تو آپ کہتے ہیں کہ سچی بات کو پیش کرنا چاہیے نہ کہ جذبات کو اُکسانے والی