خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 172

خلافة على منهاج النبوة ۱۷۲ جلد اول باتوں کو۔اور پھر آپ خود ایسے کام کرتے ہیں کیا کہیں میں نے یہ فیصلہ شائع کیا ہے کہ نَعُوذُ بِاللهِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسیح موعود نہ تھے یا یہ کہ اب ان کی جگہ میں مسیح موعود ہوں یا یہ کہ اب اُن کا حکم ماننا ضروری نہیں اب صرف میرا حکم ماننا ضروری ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو بیشک آپ کہہ سکتے تھے کہ مسیح موعود کا نام کاٹ دیا گیا لیکن جب کہ ان باتوں میں سے کوئی بھی نہیں تو پھر آپ کا ایک بات کو غلط پیرا یہ میں بیان کرنے سے سوائے جذبات کو برانگیختہ کرنے کے کیا مطلب ہے۔انجمن کا قاعدہ تھا کہ مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں انجمن کے معاملات میں آپ کا حکم آخری ہو گا بعد میں انجمن کا۔اس کی بجائے جماعت احمد یہ کے قائم مقاموں نے انجمن کو مجبور کیا کہ وہ اس قاعدہ میں اصلاح کرے اور خلفاء کے حکم کو آخری قرار دے اور اسی وجہ سے میرا نام وہاں لکھا گیا۔اب آپ بتائیں گے کہ کیا اس کو مسیح موعود کا نام کاٹ دینا کہتے ہیں۔نام تو انجمن چھ سال پہلے کاٹ چکی تھی کیونکہ اس ریزولیوشن کے انجمن یہ معنی کرتی تھی کہ اب ہم حاکم ہیں۔جماعت نے اس کی بجائے یہ فیصلہ کیا کہ خلیفہ وقت کا فیصلہ آخری فیصلہ ہے اور اسی کے ماتحت تبدیلی ہوئی۔آپ کا اس امر کو یہ رنگ دینا کہ گویا فیصلہ کر دیا گیا کہ مسیح موعود کا نام مٹا دیا جائے۔(نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ ) کہاں تک دیانتداری کے ماتحت ہے۔میں اس مضمون کو ختم کرنے سے پہلے ان تمام لوگوں کو جو صداقت کے طالب ہوں اور راستی اور حق کے جو یاں ہوں مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ جماعت کا موجودہ اختلاف کوئی معمولی بات نہیں اگر وہ اس امر میں کامل غور اور فکر سے کام لے کر حق کی اتباع نہ کریں گے تو ان کو خدا تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہونا ہوگا۔خدا تعالیٰ نے ایک پودا اپنے ہاتھ سے لگایا ہے اور ضرور ضرور وہ اس کی آبیاری کرے گا۔کوئی آندھی ، کوئی طوفان خطر ناک سے خطرناک ژالہ باری اس پودا کو اُکھاڑ نہیں سکتی ، خشک نہیں کر سکتی ، جلا نہیں سکتی کیونکہ اس پودا کا محافظ ، اس کا نگران خود اللہ تعالیٰ ہے لیکن وہ جو اپنے عمل سے یا اپنے قول سے خدا تعالیٰ کے لگائے ہوئے پودا کو اُکھاڑنا چاہتے ہیں ، اس کے جلائے ہوئے چراغ کو بجھانا چاہتے ہیں اپنی فکر کریں۔نیک نیتی اور غلط نہی بیشک ایک حد تک ایک جرم کو ہلکا بنا دیتی ہے لیکن یہ عذرا یسے