خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 169
خلافة على منهاج النبوة ۱۶۹ جلد اول میں سے آپ کے لئے تحفہ تحائف بھی لایا کرتے تھے۔مولوی صاحب جماعت کے معززین اشخاص میں خیال کئے جاتے تھے ان کے ترجمہ قرآن کی طرف لوگوں کی نظریں لگی ہوئی تھیں۔چند سال کی متواتر کوشش سے وہ لوگوں کی نظروں میں ایسے بنائے گئے تھے کہ گویا موجودہ نسلوں میں ایک ہی انسان ہے ایسا شخص ایسے مجمع میں اس بددعا کے بعد کھڑا ہوتا ہے جب کہ ابھی کوئی خلیفہ مقرر نہ تھا۔جن کو آپ اکابر کہتے ہیں ان کی ایک جماعت اس کے ساتھ ہے جو خود ہمیشہ اپنا رعب بٹھانے کے درپے رہتی تھی۔لیکن جب وہ شخص کھڑا ہوتا ہے تو اس ہزاروں کے مجمع میں سے ایک شور بلند ہوتا ہے کہ ہم آپ کی بات نہیں سنتے۔لیکن شاید کوئی کہے کہ چند شریروں نے منصوبہ سے ایسا کر دیا۔نہیں ! اس ہزاروں کے مجمع سے کوئی شخص ان آوازوں کے خلاف آواز نہیں اُٹھاتا اور سب کے سب اپنی خاموشی سے اپنی رضا مندی کا اظہار کرتے ہیں اور اپنے خاص دوستوں سمیت مولوی صاحب وہاں سے چلے جاتے ہیں۔صبح کی بددعا کے بعد ایسے مجمع میں اس واقعہ کا ہونا اگر ایک الہی شہادت نہیں تو اور کیا ہے؟ اگر میری بیعت کے بعد ان سے یہ سلوک ہوتا اور میری مرضی یا میرے علم سے ہوتا تو یہ ایک اور معاملہ تھا اس میں ان کی نہیں میری ذلت ہوتی۔چنانچہ جب مجھے اطلاع دی گئی کہ ایک دو پانچ چھ سالہ بچوں نے نادانی سے آپ پر کنکر پھینکنے کا ارادہ کیا تو میں نے درس میں لوگوں کو سخت ڈانٹا کہ گو بچہ نادان ہولیکن میں والدین کو اس کا ذمہ دار قرار دوں گا۔بیعت کے بعد مریدین کا سلوک اور شے ہے لیکن بیعت سے پہلے اس بددعا کے بعد وہ سلوک ضرور ایک الہی نشان تھا اور خواجہ صاحب کبھی یہ خیال نہ کریں کہ اب اگر وہ قادیان آئیں تو ان سے کسی مبائع سے سختی کروا کر کہہ دیا جائے گا کہ ان کی ذلت ہوئی یہ صرف بدظنی کا نتیجہ ہے۔اگر وہ زیادہ تدبر سے کام لیں گے تو دونوں معاملات میں ان کو فرق نظر آئے گا۔خواجہ صاحب لکھتے ہیں کہ جلسہ کو با رونق کرنے کے لئے آدمی بھیجے گئے۔میں ان کو یقین دلاتا ہوں کہ کسی شخص نے غلطی سے ان کے سامنے یہ بات بیان کر دی ہے بات یہ ہے کہ میری طرف سے یا انجمن کی طرف سے ایسا نہیں کیا گیا نہ کسی اور مبائع کی طرف سے۔بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ انجمن احمد یہ اشاعت اسلام نے کچھ اشتہار مبائعین میں تقسیم کرنے کے