خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 168
خلافة على منهاج النبوة ۱۶۸ جلد اول حضرت صاحب پر چسپاں نہیں ہوتا ؟ کیا کرم دین کے مقدمہ میں مجسٹریٹ آپ کو کھڑا نہ رکھتا تھا ؟ کیا ایسا نہیں ہوا کہ بعض اوقات آپ نے پانی پینا چاہا اور اُس نے پانی تک پینے کی اجازت نہیں دی؟ لیکن کیا آپ اس کو ذلت کہہ سکتے ہیں؟ اگر نہیں تو کیوں اور پھر کیوں؟ محمد حسین سے ویسے ہی سلوک پر اُسے ذلّت قرار دیا گیا۔سینے ! ان دونوں مثالوں میں ایک فرق ہے اول تو یہ کہ محمد حسین کو سخت ڈانٹ دی گئی اور ڈپٹی کمشنر بہادر نے جھڑک کر پیچھے ہٹا دیا لیکن حضرت صاحب سے یہ معاملہ نہیں ہوا۔دوسرے مقدمہ ایک ایسے مجسٹریٹ کے سامنے پیش تھا جس کے سامنے دونوں برابر تھے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسیحیت کے دشمن تھے اور وہ ایک مسیحی تھا پس صاحب بہادر کا سلوک محمد حسین سے پہلا کسی محرک کے ہوا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بوجہ اُن کی تبلیغی کوششوں اور سب مذاہب کی بنیادیں کھوکھلی کر دینے کے سب فرقوں کو عداوت تھی خصوصاً اہالیانِ ہند کو۔پس ایک ہندوستانی کا۔آپ سے یہ سلوک کرنا پہلے معاملہ سے اس کو علیحدہ کر دیتا ہے۔پھر ایک اور بات ہے کہ لوگ ہمیشہ مرا بھی کرتے ہیں لیکن غلام دستگیر کی موت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی سچائی کی دلیل قرار دیتے ہیں یہ کیوں؟ اس لئے کہ اس نے مباہلہ کیا تھا اور مطابق مباہلہ کے مر گیا۔اسی طرح اب اس معاملہ کو لیجئے مولوی محمد علی صاحب نے صبح کے وقت مسجد میں تقریر کی کہ اگر میں نے بدنیتی سے ٹریکٹ لکھا تھا تو خدا مجھے پکڑے، مجھے ہلاک کرے، مجھے ذلیل کر دے۔عصر کے وقت وہ ایک ایسے مجمع میں کھڑے ہوتے ہیں جوان کے دشمنوں کا نہیں اس جماعت کا ہے جس میں پہلے کھڑے ہو کر انہوں نے یہاں تک بھی کہا تھا کہ تم اپیل تو سنتے رہے ، چندہ مانگنے کے وقت اُٹھ کر بھاگتے تھے ہم جو نتیوں سے چندہ وصول کریں گے اس جماعت کا تھا جس میں آپ کے ماتحت ملازم شامل تھے۔اس جماعت کا تھا جس میں وہ طلباء موجود تھے جو مولوی صدر الدین صاحب ہیڈ ماسٹر کی زیر تربیت رہتے تھے اور مولوی صدرالدین صاحب ہی اُس وقت کے سیکرٹری تھے وہ اس مجمع میں کھڑے ہوتے ہیں جس پر میرا کوئی زور نہ تھا، کوئی حکومت نہ تھی ، جماعت کے لوگ مختلف جگہوں سے اکٹھے ہوئے ہوئے تھے۔وہ دیرینہ سیکرٹری شپ کی وجہ سے مولوی صاحب کے ایسے معتقد تھے کہ بعض ان