خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 158
خلافة على منهاج النبوة ۱۵۸ جلد اول نہیں کی وہ غلط کہتا ہے۔حضرت عائشہ تو اپنی غلطی کا اقرار کر کے مدینہ جا بیٹھیں اور طلحہ اور زبیر نہیں فوت ہوئے جب تک بیعت نہ کر لی۔چنانچہ چند حوالہ جات ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔(الف) وَاَخْرَجَ الْحَاكِمُ عَنْ ثَوْرِبْنِ مَجْزَاةَ قَالَ مَرَرْتُ بِطَلْحَةَ يَوْمَ الْجَمَلِ فِي اخِرِ رَمَةٍ۔فَقَالَ لِى مِمَّنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ مِنْ أَصْحَب أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ - فَقَالَ ابْسُطُ يَدَكَ يُبَايِعُكَ فَبَسَطْتُ يَدِى وَبَايَعَنِى وَفَاضَتْ نَفْسُهُ۔فَأَتَيْتُ عَلِيًّا فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ اللهُ أَكْبَرُ صَدَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَبَى اللَّهُ أَنْ يُدْخُلَ طَلْحَةُ الْجَنَّةَ إِلَّا " وَبَيعَتِي فِي عُنُقِهِ ترجمہ: اور حاکم نے روایت کی ہے کہ ثور بن مجزاۃ نے مجھ سے ذکر کیا کہ میں واقعہ جمل کے دن حضرت طلحہ کے پاس سے گذرا۔اُس وقت ان کی نزع کی حالت قریب تھی۔مجھ سے پوچھنے لگے کہ تم کون سے گروہ میں سے ہو؟ میں نے کہا کہ حضرت امیر المؤمنین علی کی جماعت میں سے ہوں۔تو کہنے لگے اچھا ! اپنا ہاتھ بڑھاؤ تا کہ میں تمہارے ہاتھ پر بیعت کرلوں چنانچہ اُنہوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی اور پھر جان بحق تسلیم کر گئے۔میں نے آ کر حضرت علی سے تمام واقعہ عرض کر دیا۔آپ سن کر کہنے لگے۔الله اكبر خدا کے رسول کی بات کیا کچی ثابت ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے یہی چاہا کہ طلحہ میری بیعت کے بغیر جنت میں نہ جائے۔( آپ عشرہ مبشرہ میں سے تھے ) (ب) وذکر کرده شد عائشه را یک بار روز جمل - گفت مردم روز جمل میگویند - گفتنداری گفت من دوست داشتم که می نشستم ـ چنانکه بنشست غیر من که این احب ست بسوی من ازین که می زائیدم از رسول خدا صلعم دہ کس که همه ایشان مانند عبدالرحمن بن الحارث بن هشام می بودند - ترجمہ: اور حضرت عائشہ کے پاس ایک دفعہ واقعہ جمل مذکور ہوا تو کہنے لگیں کیا لوگ واقعہ جمل کا ذکر کرتے ہیں؟ کسی ایک نے کہا جی اسی کا ذکر کرتے ہیں۔کہنے لگیں کہ کاش !