خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 157
خلافة على منهاج النبوة ۱۵۷ جلد اول کہ خدمات کا یہ بدلہ نہیں ملتا۔خدمات تو سارے احمدیوں نے کی ہیں اور بتوں نے آپ سے بڑھ کر کی ہیں۔جن کے پاس مسیح موعود علیہ السلام کی لکھی ہوئی سندات موجود ہیں۔پس یہ نہیں کہہ سکتے کہ خدمات کا ایسا اُلٹا بدلہ کیوں ملا کیونکہ بہتوں نے خدمات کیں اور انعام پائے۔اگر آپ کو ٹھو کر لگی تو اس کے کوئی پوشیدہ اسباب ہوں گے جن سے خدا تعالیٰ واقف ہے اور ممکن ہے کہ آپ بھی واقف ہوں ہمیں اس بات کے معلوم کرنے کی کچھ ضرورت نہیں۔باقی رہا یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کیوں ایسے لوگوں سے آگاہ نہ کیا گیا اس کے دو جواب ہیں۔اول یہ کہ مجملاً آگاہ کیا گیا جیسا کہ پہلے میں الہام لکھ آیا ہوں دوسرے یہ کہ کوئی ضروری نہیں کہ آپ کو آپ کی وفات کے بعد کی گل کا رروائیوں سے واقف کیا جا تا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر آپ کی وفات کے بعد سخت مصائب آئے مگر آپ کو نہیں بتایا گیا کہ کس کا کیال حال ہو گا۔آپ لوگوں پر اصل ابتلاء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد آیا۔خلافت بعد میں ہوئی اُس وقت تو نہ تھی۔پھر یہ کون سی ضروری بات تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بتایا جاتا کہ فلاں فلاں شخص انکارِ خلافت کرے گا اور اگر ضروری تھا تو کیا یہ بتایا گیا کہ آپ کی اولا دسب کی سب اور سب قادیان کے مہاجرین اور اکثر حصہ جماعت آپ کی وفات کے بعد کا فر ہو جائیں گے ( جیسا کہ آپ نے صفحه ۴۶ پر کافر قرار دیا ہے ) اگر یہ امر آپ کے خیال کے مطابق واقعہ ہو گیا لیکن اس کا آپ کو علم نہ دیا گیا تو آپ کون سی ایسی خصوصیت رکھتے ہیں کہ آپ کے متعلق ضرور کوئی الہام ہوتا چاہیے تھا۔آپ کے سب بیٹے بقول آپ کے کا فر ہو جائیں تو کسی الہام کی ضرورت نہیں ، سب مہاجرین بگڑ جائیں تو کسی الہام کی ضرورت نہیں لیکن اگر آپ کے عقائد میں کچھ فرق آتا تھا تو اس کی اطلاع مسیح موعود علیہ السلام کو ضرور ہو جانی چاہیے تھی۔اور اگر نہیں ہوئی تو ثابت ہوا کہ آپ حق پر ہیں۔خواجہ صاحب ! ان دلائل سے کام نہیں چل سکتا کسی بات کے ثابت کرنے کیلئے کوئی مضبوط دلیل چاہیے۔طلحہ اور زبیر اور حضرت عائشہ کے بیعت نہ کرنے سے آپ حُجت نہ پکڑیں۔ان کو انکارِ خلافت نہ تھا بلکہ حضرت عثمان کے قاتلوں کا سوال تھا۔پھر میں آپ کو بتاؤں جس نے آپ سے کہا ہے کہ اُنہوں نے حضرت علی کی بیعت۔