خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 156

خلافة على منهاج النبوة جلد اول E۔۔چھوٹے کئے جائیں گے۔پس مقام خوف ہے کہ اگر آپ کے خیال کے مطابق بڑے چھوٹے نہیں ہو سکتے تھے بلکہ اکا بر معصوم عن الخطاء ہی سمجھے جانے کے لائق ہیں تو پھر اس عبارت کا کیا مطلب ہے۔اس عبارت سے تو بالبداہت ثابت ہو جاتا ہے کہ ا کا بر کا چھوٹا ہو جانا بھی ممکن ہے بلکہ بعض چھوٹے کئے بھی جائیں گے۔پس آپ اس دلیل سے کوئی فائدہ نہیں حاصل کر سکتے۔خصوصاً جب کہ صحابہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر ان لوگوں کو جنہوں نے بیعت ابی بکڑ نہ کی تھی اور جن میں سے ایک ایسا بڑارتبہ رکھتا تھا کہ وہ بارہ نقیبوں میں سے ایک تھا مرتد اور منافق کہا ہے اور اس کا ثبوت صحیح احادیث اور مستند روایات سے مل سکتا ہے۔^ پس چند آدمیوں کا ٹھو کر کھا جانا جب کہ کثرت حق پر قائم ہوسلسلہ کی تباہی کی علامت نہیں اور پھر اس حالت میں جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے رویا میں بتایا بھی ہے کہ جماعت کا ایک سنجیدہ آدمی مرتدوں میں مل گیا ہے۔۱۸ ستمبر ۱۹۰۷ء رؤیا۔فرمایا: چند روز ہوئے میں نے خواب میں ایک شخص کو دیکھا تھا کہ وہ مرتدین میں داخل ہو گیا ہے۔میں اس کے پاس گیا وہ ایک سنجیدہ آدمی ہے۔میں نے اُس سے پوچھا کہ یہ کیا ہوا ؟ اُس نے کہا کہ مصلحت وقت ہے“۔2 اور یہ رویا عبد الحکیم کے ارتداد کے بعد کی ہے۔اور آپ جانتے ہیں کہ آپ کا قدم غیر احمدیوں کے زیادہ قریب ہے بہ نسبت ہمارے۔کیونکہ ہم پر تو آپ الزام دیتے ہیں کہ ہم ان مسلمانوں سے دور ہی دور جا رہے ہیں اور خود جب کہ حضرت کا کشف مولوی محمد علی صاحب کی نسبت موجود ہے کہ آپ بھی صالح تھے اور نیک ارادہ رکھتے تھے، یہ ” تھے، ظاہر کرتا ہے کہ کبھی ایسا وقت آنے والا ہے کہ ہمیں نہایت افسوس سے ہیں‘ کی بجائے تھے کہنا پڑے گا۔اسی طرح شیخ رحمت اللہ صاحب کی نسبت دعا کرنا اور الہام ہونا کہ شَرِّ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ نے جن پر تو نے انعام کیا ان کی شرارت۔اور یہ بات تو آپ بھی بار بار پیش کرتے ہیں کہ ہم پر حضرت بہت مہربان تھے اور شیخ صاحب کی نسبت دعا کرنے پر اس الہام کا ہونا مطلب کو اور بھی واضح کر دیتا ہے۔اور اگر آپ کہیں کہ کیا ہماری خدمات کا یہی بدلہ ملنا چاہیے تھا ؟ تو اس کا جواب یہ۔