خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 149
خلافة على منهاج النبوة ۱۴۹ جلد اول سے مراد بیعت لینے والا خلیفہ تھا کیونکہ اس کے لئے چالیس آدمیوں کی شرط ہے اور آپ کے آنے نہ آنے کا اس پر کوئی اثر نہ ہو سکتا تھا اور نہ ایسا خلیفہ بنانے کے لئے آپ کو یہ ضرورت تھی کہ آپ کہتے کہ نہ میں خلیفہ بنا چاہتا ہوں اور نہ مولوی محمد علی صاحب کیونکہ ایسے خلیفہ کئی ہو سکتے ہیں۔( آپ ان کا نام خلیفہ رکھتے ہیں میں ان کو خلیفہ نہیں کہتا۔) خواجہ صاحب ایک جگہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ جو بیعت لے وہ خلیفتہ اسیح کہلا سکتا ہے بلکہ جو شخص پہلے کا کوئی کام کرے وہ اس کا خلیفہ ہے تو کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ کیا جس قدر صحابہ اشاعت اسلام میں لگے ہوئے تھے اور صحابہ سب ہی اس کام میں مشغول تھے خلیفۃ الرسول کہلاتے تھے ؟ اگر صرف ایک شخص ہی کہلاتا تھا تو کیا اس سے ثابت نہیں کہ خلیفہ ایک اسلامی اصطلاح ہے جس کی آپ لوگ ہتک کرتے ہیں۔پھر اگر خلیفہ اسی کو کہتے ہیں جو کسی کا کام کرے تو کیوں خلیفہ اول کی موجودگی میں آپ خلیفہ اسیح نہیں کہلاتے تھے کیونکہ آپ بقول اپنے مسیح موعود کا اصل کام اشاعت اسلام کر رہے تھے اُس وقت کیوں آپ کو خلیفہ اسیح کہلانے کی جرات نہیں ہوئی۔پھر میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ اگر آپ کو یہ دکھا نا مد نظر نہیں کہ ہمارے امیر کے ماتحت چند خلیفہ اصیح ہیں تو کیوں خو د مولوی محمد علی صاحب کو خلیفة امسیح نہیں لکھا جاتا وہ تو آپ کے نزدیک مسیح موعود کے زیادہ قائم مقام ہیں۔باقی رہا سوال مقدمہ کا کہ مقدمہ ہوگا اور عدالتوں تک جانا پڑے گا یہ ایسی دھمکیاں ہیں جو ہمیشہ راست بازوں کو ملتی رہی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے لئے کسری نے اپنے آدمی بھیجے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عدالتوں میں گھسیٹا گیا اسی طرح اگر کوئی مجھے بھی عدالت میں بلوائے یا انجمن پر مقدمہ کرے تو کیا حرج ہے۔ایں ہمہ اندر عاشقی بالائے غمہائے دگر۔جب میں نے خدا کے لئے اور صرف خدا کے لئے اس کام کو اپنے ذمہ لیا ہے اور میں نے کیا لینا تھا خدا تعالیٰ نے یہ کام میرے سپرد کر دیا ہے تو اب مجھے اس سے کیا خوف ہے کہ انجام کیا ہو گا۔میں جانتا ہوں کہ انجام بہر حال بہتر ہوگا کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کا مجھے سے وعدہ ہے اور وہ سچے وعدوں والا ہے۔پس آپ مجھے مقدموں سے کیا ڈراتے ہیں۔ہمارا مقدمہ خدا کے دربار میں داخل ہے کیا یہ بات بعید ہے کہ پیشتر اس کے کہ دنیا کی حکومتیں۔