خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 146
خلافة على منهاج النبوة ۱۴۶ جلد اوّل ہے؟ پھر حج میں کیا ضرورت ہے؟ اسی طرح ایک وقت کی روٹی کھالی تو پھر دوسرے وقت کیا ضرورت ہے؟ جب ان باتوں میں تکرار ضروری ہے تو اس اجتماع میں بھی تکرار ضروری ہے یہ میں اس لئے بیان کرتا ہوں تا تم سمجھو کہ ہمارے امام چلے گئے تو پھر بھی ہم میں اسی وحدت ، اتفاق ، اجتماع اور پُر جوش روح کی ضرورت ہے۔اس تقریرہ میں آپ نے جو اعتراض خلافت پر کئے ہیں ان کے جواب خود حضرت خلیفہ اول کی زبانی موجود ہیں لیکن میں نے یہ حوالہ جات اس لئے نقل نہیں کئے کہ میں یہ آپ پر حجت قائم کروں کہ حضرت خلیفہ اول نے یوں فرمایا ہے اس لئے آپ بھی مان لیں بلکہ اس لئے نقل کئے ہیں تا آپ کو معلوم ہو جائے کہ حضرت خلیفہ اول کا مذہب شائع ہو چکا ہے اور آخری حوالہ تو خود صدرانجمن احمدیہ کی رپورٹ سے نقل کیا گیا ہے پس آپ کی یہ کوشش کہ لوگوں پر یہ ثابت کریں کہ حضرت خلیفہ اول کسی شخصی حکومت کے قائل نہ تھے کا میاب نہیں ہو سکتی بلکہ اس سے آپ کی دیانت پر خطرناک اعتراض آتا ہے۔پس آپ یہ بیشک اعلان کریں کہ خلافت کے متعلق حضرت خلیفہ اول کی رائے حجت نہیں لیکن یہ خیال لوگوں کے دلوں میں بٹھانے کی کوشش نہ کریں کہ حضرت خلیفہ اول آپ کے اس خیال پر آپ سے خوش تھے یا یہ کہ آپ سے ناراض نہ تھے یا یہ کہ خود آپ سے متفق تھے کیونکہ ان خیالات میں سے کسی ایک کا ظاہر کرنا گویا اس بات کا یقینی ثبوت دینا ہے کہ خلافت کے مقابلہ میں حق کی بھی پرواہ نہیں رہی ضرور ہے کہ اس مضمون کو پڑھ کر خود آپ کے وہ دوست جن کی مجلس میں آپ بیٹھتے ہیں آپ پر دل ہی دل میں ہنستے ہوں گے یا اگر ان کے دل میں ذرا بھی خوف خدا ہوگا تو روتے ہوں گے کہ خواجہ صاحب کو خلاف بیانی کی کیا ضرورت پیش آئی تھی۔اگر وہ بیعت جو نہایت سخت ڈانٹ کے بعد آپ سے لی گئی اور اگر وہ بیعت جو حکیم فضل دین کے مکان کے جھگڑے پر آپ کے بعض دوستوں سے لی گئی ایک انعام تھا تو دنیا میں ناراضگی اور خفگی کوئی ھے کا نام نہیں۔مولوی غلام حسن صاحب پشاوری بھی ان تمام واقعات سے آگاہ ہیں اور آپ کی جماعت کے خلیفہ ہیں کیا آپ اپنے بیان کی تصدیق انہی سے حلفی بیان کے ساتھ کروا سکتے ہیں؟ غالباً ان کو یاد ہوگا کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ المسیح کو یہ خبر پہنچی تھی کہ ان کے