خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 143

خلافة على منهاج النبوة ۱۴۳ جلد اول بیعت کی گئی ہے اور سب جماعت آپ کی خدمت میں بیعت کے خطوط لکھ دے۔اب فرمائیے کہ کیا آپ کا یہ اعلان یہی ظاہر کرتا ہے کہ آپ نے صرف بزرگ سمجھ کر بیعت کی تھی۔الوصیت کے کون سے فقرات میں یہ بات درج ہے کہ اگر کوئی نیک آدمی جماعت میں ہو تو میری ساری جماعت اس کی بیعت کرے۔اور اس کا فرمان سب جماعت کے لئے آئندہ ایسا ہی ہو جیسا کہ حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کا تھا“۔بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات سے جماعت میں ایسے شدید تفرقہ کا خطرہ تھا کہ اُس وقت سوائے ایک خلیفہ کے ذریعہ جماعت کو متحد رکھنے کے آپ کو اور کوئی تدبیر سمجھ میں نہ آتی تھی اور خلافت کی مخالفت کے خیال بعد کے ہیں یا اُس وقت شدت غم میں دب گئے تھے کیونکہ حضرت خلیفہ اول نے اُس وقت فرما دیا تھا کہ بیعت کے بعد میری ایسی فرمانبرداری کرنی ہوگی جس میں کسی انکار کی گنجائش نہ ہو۔پس اگر اُس وقت آپ کے خیالات اس کے خلاف ہوتے تو آپ کیوں بیعت سے انکار نہ کر دیتے۔خواجہ صاحب ! اور امور میں میں خیال کر سکتا ہوں کہ آپ کو غلطی لگی ہو گی لیکن اس امر میں میں ایک منٹ کے لئے بھی خیال نہیں کر سکتا کہ آپ غلطی سے یہ اثر قارئین ٹریکٹ کے دل پر ڈالنا چاہتے ہیں کہ آپ خلیفہ اول کی وفات تک ان کے سامنے اظہار کرتے رہے کہ آپ خلافت کے قائل نہیں ہیں اور یہ کہ چھوٹی مسجد کی چھت پر آپ سے جو بیعت لی گئی وہ خوشنودی کی بیعت تھی۔میرے کانوں میں یہ الفاظ گونج رہے ہیں کہ جس نے یہ لکھا ہے کہ خلیفہ کا کام بیعت لینا ہے اصل حاکم انجمن ہے وہ تو بہ کر لے۔خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ اگر اس جماعت میں سے کوئی تجھے چھوڑ کر مرتد ہو جائے گا تو میں اس کے بدلے تجھے ایک جماعت دوں گا اور آپ جانتے ہیں کہ وہ شخص جس نے یہ الفاظ لکھے تھے کون تھا۔ہاں یہ الفاظ بھی میرے کانوں میں اب تک گونج رہے ہیں کہ دیکھو میں اس انجمن کی بنائی ہوئی مسجد پر بھی نہیں کھڑا ہوا بلکہ اپنے میرزا کی بنائی ہوئی مسجد پر کھڑا ہوں اور یہ وہ الفاظ تھے جن کو سن کر لوگوں کی چیخیں نکل گئی تھیں وہ لوگ اب تک زندہ ہیں جن کو سمجھا کر آپ لا ہور سے لائے تھے اور جن کو الگ الگ حضرت خلیفہ اول نے سخت ڈانٹ پلا ئی تھی خود مجھ سے دیر دیر تک آپ کی اس