خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 137
خلافة على منهاج النبوة ۱۳۷ جلد اول چار پائی پر سے مشکل سے اُترتے ہیں اس طرح بڑی مشکل سے اترتے ہیں اور جب شیخ صاحب نے مجھے اور ان کو پاس کھڑا کیا تو وہ بے اختیار کہہ اٹھے ہیں ! میں تو سمجھتا تھا کہ مولوی صاحب اونچے ہیں لیکن اونچے تو آپ نکلے۔میں نے کہا ہاں میں ہی اونچا ہوں۔اس پر اُنہوں نے کہا کہ اچھا میں مولوی صاحب کو اُٹھا کر آپ کے کندھوں کے برابر کرتا ہوں دیکھیں ان کے پیر کہاں آتے ہیں اور یہ کہہ کر اُنہوں نے مولوی صاحب کو اُٹھا کر میرے کندھوں کے برابر کرنا چاہا۔جتنا وہ اونچا کرتے جاتے اُسی قدر میں اونچا ہوتا جاتا آخر بڑی دقت سے اُنہوں نے ان کے کندھے میرے کندھوں کے برابر کئے تو اُن کی لاتیں میرے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچ سکیں جس پر وہ سخت حیران ہوئے۔یہ خواب اُس وقت کی ہے جب ان جھگڑوں کا وہم و گمان بھی نہ ہوسکتا تھا۔سات سال کے بعد کے واقعات بتانا انسان کا کام نہیں۔میں نے یہ رویا اُسی وقت سید سرور شاہ صاحب، سید ولی اللہ شاہ صاحب کو جو اس وقت بیروت (شام) میں ہیں اور سید حبیب اللہ شاہ صاحب کو جو میڈیکل کالج کی آخری کلاس میں پڑھتے ہیں سنا دی تھی اور ان سے گواہی لی جاسکتی ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ اُن کو یہ رویا یا د ہو گی۔ممکن ہے کہ اور دوستوں کو بھی سنائی ہولیکن اور کسی کا نام یاد نہیں ہم اُس وقت اس رویا پر حیران ہوا کرتے تھے کہ یہ قدوں کا نا پنا کیا معنی رکھتا ہے نہ خلافت کا سوال تھا نہ خلیفہ کی بیعت کا ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام زندہ تھے کون سمجھ سکتا تھا کہ کبھی واقعات بدل کر اور کی اور صورت اختیار کر لیں گے مگر خدا کی باتیں پورے ہوئے بغیر نہیں رہتیں۔مولوی محمد علی صاحب کے دوستوں نے اُنہیں میرے مقابلہ پر کھڑا کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سخت نا کام کیا حتی کہ اُنہوں نے اپنی ذلت کا خودا قرار کیا۔جس قدر بھی ان کے دوستوں نے زور مارا کہ اُن کو اونچا کریں اُسی قدر خدا تعالیٰ نے ان کو نیچا کیا اور قریباً ستانوے فیصدی احمدیوں کو میرے تابع کر دیا اور میرے ذریعہ جماعت کا اتحاد کر کے مجھے بلند کیا۔اب میں آخر میں تمام راستی پسند انسانوں کو کہتا ہوں کہ اگر وہ اب تک خلافت کے مسئلہ میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکے تو اب بھی فیصلہ کر لیں کیونکہ یہ کام خدا کی طرف سے ہوا ہے اور کسی