خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 138
خلافة على منهاج النبوة ۱۳۸ جلد اول انسان کا اس میں دخل نہیں۔اگر آپ اس صداقت کا انکار کریں گے تو آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔پس حق کو قبول کریں اور جماعت میں تفرقہ نہ ڈالیں۔میں کیا چیز ہوں؟ میں جماعت کا ایک خادم ہوں جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اس جماعت کو متحد کرنا چاہتا ہے ورنہ کام تو سب اللہ تعالیٰ کا ہے۔مجھے خلافت کا نہ کوئی شوق تھا اور نہ ہے مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کام پر مقرر کر دیا تو میں ہو گیا میرا اس میں کوئی دخل نہیں۔اور آپ ان باتوں کو سُن کر یہ بھی اندازہ کر سکیں گے کہ جب کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے قبل از وقت خلافت کا جھگڑا، خلیفہ کی صداقت ، خلیفہ اول کی وفات کا سن، مہینہ، آپ کی وصیت ، میرا گاڑی میں آپ کی وفات کی خبر سننا، آپ کی بیماری کا حال سب کچھ بتا دیا تھا تو کیا ایک لمحہ کے لئے بھی میرا دل مترڈ د ہو سکتا تھا اور جب کہ بعض دوسری رؤیا نے وقت پر پوری ہو کر بتا دیا کہ منشائے الہی یہی تھا کہ میں ہی دوسرا خلیفہ ہوں اور میری مخالفت بھی ہو اور کامیابی میرے لئے ہو تو کیا میں خلافت کے متعلق ان لوگوں کا مشورہ سُن سکتا تھا جو مجھے مشورہ دیتے تھے کہ میں اب بھی اس کام کو ترک کر دوں۔کیا میں منشائے الہی کے خلاف کر سکتا ہوں ؟ اگر میں ایسا کروں تو میں خدا تعالیٰ کے فیصلہ کو رڈ کرنے والا ہوں گا اور اللہ تعالیٰ مجھے اس حرکت سے محفوظ رکھے۔خدا نے جو چاہا وہ ہو گیا اور جولوگوں نے چاہا وہ نہ ہوا۔مگر مبارک ہے وہ جو خدا کے فیصلہ کو قبول کرے اور اس قدر آسمانی شہادتوں کے بعد ضد اور ہٹ سے کام نہ لے۔“ (انوار العلوم جلد ۲ صفحه ۱۵۵ تا ۱۹۲) بخارى كتاب التفسير تفسير سورة نوح باب ودا ولا سواعا صفحه ۸۷۵ كو حدیث نمبر ۴۹۲۰ مطبوعہ ریاض ۱۹۹۹ء الطبعة الثانية را ہرو: مسافر (فرہنگ آصفیہ جلد دوم صفحه ۹۴۷ مطبوعہ لاہور ۲۰۱۵ء) الم نشرح: ۴۳ ال عمران: ۱۶۵ یوحنا باب ۲۱ آیت ۱۵ تا۷ ابرٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور ۱۹۲۲ء لوقا باب ۹ آیت ۱ - ۲ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور ۱۹۲۲ء لوقا باب ۹ آیت ۶ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور ۱۹۲۲ء