خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 136

خلافة على منهاج النبوة ۱۳۶ جلد اول اللہ تعالیٰ نے اس رویا کے ذریعہ سے حضرت مولوی صاحب پر سے یہ اعتراض دور کیا ہے جو بعض لوگ آپ پر کرتے ہیں کہ اگر حضرت مولوی صاحب اپنے زمانہ میں ان لوگوں کے اندرونہ سے لوگوں کو عَلَى الإعلان آگاہ کر دیتے اور اشارات پر ہی بات نہ رکھتے یا جماعت سے خارج کر دیتے تو آج یہ فتنہ نہ ہوتا۔اور مولوی صاحب کی طرف سے قبل از وقت یہ جواب دے دیا کہ یہ نقص میرے زمانہ کا نہیں بلکہ پہلے کا ہی ہے اور یہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ہی بگڑ چکے تھے ان کے بگڑنے میں میرے کسی سلوک کا دخل نہیں مجھ سے پہلے ہی ایسے تھے۔شاید کوئی شخص اعتراض کرے کہ یہ تعبیر تو آب بنائی جاتی ہے مگر یا درکھنا چاہیے کہ تعبیر کا علم واقعہ کے بعد ہی ہوتا ہے یہ خواب صاف ہے اور اس میں کوئی بیچ نہیں۔ہر ایک شخص اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ جو تعبیر میں نے کی ہے اس کے سوا کوئی درست تعبیر نہیں ہوسکتی۔یہ خواب میں نے حافظ روشن علی صاحب کو قبل از وقت سنا دی تھی اور دوستوں کو بھی سنائی ہے لیکن ان کے نام یا دنہیں۔پر سئلہ خلافت پر نویں آسمانی شہادت جس طرح خلافت کے جھگڑے، حضرت خلیفہ اسیح کی وفات، آپ کی وصیت، میری جانشینی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت مجھے اطلاع دی تھی اسی طرح مجھے یہ بھی بتایا گیا تھا کہ میرے مقابلہ پر کون ہو گا جو سخت فتنہ برپا کرے گا لیکن ناکام رہے گا۔اس بات کو قریباً سات سال ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ۱۹۰۲ء کے اکتوبر یا نومبر میں میں نے رؤیا دیکھی کہ میں بورڈنگ کے ایک کمرہ میں ہوں یا ریویو آف ريليجنز کے دفتر میں وہاں ایک بڑے صندوق پر مولوی محمد علی صاحب بیٹھے ہیں اور میں ذرا فاصلہ پر کھڑا ہوں اتنے میں ایک دروازہ سے شیخ رحمت اللہ صاحب تاجر داخل ہوئے اور ہم دونوں کو دیکھ کر کہا کہ میاں صاحب ! آپ لمبے ہیں یا مولوی صاحب؟ مولوی صاحب نے کہا کہ میں لمبا ہوں۔میں نے کہا کہ میں لمبا ہوں۔شیخ صاحب نے کہا آؤ دونوں کو نا ہیں۔مولوی صاحب صندوق پر سے اترنا چاہتے ہیں لیکن جس طرح بچے اونچی