خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 131

خلافة على منهاج النبوة ۱۳۱ جلد اول مسئلہ خلافت پر چھٹی آسمانی شہادت ۱۹۱۳ء میں میں ستمبر کے مہینہ میں چند دن کے لئے شملہ گیا تھا۔جب میں یہاں سے چلا ہوں تو حضرت خلیفہ المسیح کی طبیعت اچھی تھی لیکن وہاں پہنچ کر میں نے پہلی یا دوسری رات دیکھا کہ رات کا وقت ہے اور قریباً دو بجے ہیں میں اپنے کمرہ میں ( قادیان میں ) بیٹھا ہوں۔مرزا عبد الغفور صاحب ( جو کلانور کے رہنے والے ہیں ) میرے پاس آئے اور نیچے سے آواز دی میں نے اُٹھ کر ان سے پوچھا کہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ حضرت خلیفۃ اصبح کو سخت تکلیف ہے تپ کی شکایت ہے ایک سو دو کے قریب تپ ہو گیا تھا آپ نے مجھے بھیجا ہے کہ میاں صاحب کو جا کر کہہ دو کہ ہم نے اپنی وصیت شائع کر دی ہے مارچ کے مہینہ کے بدر میں دیکھ لیں۔جب میں نے یہ رؤیا دیکھی تو سخت گھبرایا اور میرا دل چاہا کہ واپس لوٹ جاؤں لیکن میں نے مناسب خیال کیا کہ پہلے دریافت کرلوں کہ کیا آپ واقع میں بیمار ہیں۔سو میں نے وہاں سے تار دیا کہ حضور کا کیا حال ہے؟ جس کے جواب میں حضرت نے لکھا کہ اچھے ہیں۔یہ رویا میں نے اُسی وقت نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کو اور مولوی سید سرور شاہ صاحب کو سنا دی تھی اور غالباً نواب صاحب کے صاحبزادگان میاں عبدالرحمن خان صاحب، میاں عبداللہ خان صاحب ، میاں عبدالرحیم خان صاحب میں سے بھی کسی نے وہ رؤیا سنی ہوگی کیونکہ وہاں ایک مجلس میں میں نے اس رؤیا کو بیان کر دیا تھا۔اب دیکھنا چاہیے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت مجھے حضرت کی وفات کی خبر دی اور چار باتیں ایسی بتائیں کہ جنہیں کوئی شخص اپنے خیال اور اندازہ سے دریافت نہیں کر سکتا۔اول تو یہ کہ حضور کی وفات تپ سے ہو گی۔دوم یہ کہ آپ وفات سے پہلے وصیت کر جائیں گے۔سوم یہ کہ وہ وصیت مارچ کے مہینہ میں شائع ہوگی۔چہارم یہ کہ اس وصیت کا تعلق بدر کے ساتھ ہوگا۔