خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 132

خلافة على منهاج النبوة ۱۳۲ جلد اول اگر ان چاروں باتوں کے ساتھ میں یہ پانچویں بات بھی شامل کر دوں تو نا مناسب نہ ہوگا کہ اس رؤیا سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس وصیت کا تعلق مجھ سے بھی ہوگا کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو میری طرف آدمی بھیج کر مجھے اطلاع دینے سے کیا مطلب ہوسکتا تھا اور یہ ایک ایسی بات تھی کہ جسے قبل از وقت کوئی بھی نہیں سمجھ سکتا تھا لیکن جب واقعات اپنے اصل رنگ میں پورے ہو گئے تو اب یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ اس رؤیا میں میری خلافت کی طرف بھی اشارہ تھا لیکن چونکہ یہ بات وہم و گمان میں بھی نہ تھی اس لئے اُس وقت جب کہ یہ رویا دکھلائی گئی تھی اس طرف خیال بھی نہیں جا سکتا تھا۔مندرجہ بالا پانچ نتائج جو اس رؤیا سے نکالے گئے ہیں ان سے چار تو صاف ہیں یعنی تپ سے وفات کا ہونا چنا نچہ ایسا ہی ہوا۔وصیت کا کرنا وہ بھی صاف ہے کیونکہ آپ نے اپنی وفات سے پہلے وصیت کر دی تھی۔تیسرے مارچ میں وصیت کا ہونا وہ بھی ایک بالکل واضح ہے کیونکہ آپ نے مارچ ہی میں وصیت کی اور مارچ ہی میں وہ شائع ہوئی۔پانچواں امر بھی صاف ہے کہ اس وصیت کا مجھ سے بھی کچھ تعلق تھا چنانچہ ایسا ہی ظاہر ہوا۔لیکن چوتھی بات کہ بدر میں دیکھ لیں تشریح طلب ہے کیونکہ آپ کی وصیت جہاں الفضل ، الحکم، نور میں شائع ہوئی وہاں بدر میں شائع نہیں ہوئی کیونکہ وہ اُس وقت بند تھا۔پس اس کے کیا معنی ہوئے کہ بدر میں دیکھ لیں۔سو اس امر کے سمجھنے کے لئے یا د رکھنا چاہیے کہ رؤیا اور کشوف کبھی بالکل اصل شکل میں پورے ہوتے ہیں اور کبھی وہ تعبیر طلب ہوتے ہیں اور کبھی ان کا ایک حصہ تو اصل رنگ میں ظاہر ہوتا ہے اور ایک حصہ تعبیر طلب ہوتا ہے سو یہ خواب بھی اسی طرح کی ہے اور جہاں اس رویا میں سے چار امور بالکل صاف اور واضح طور پر پورے ہوئے ایک امر تعبیر طلب بھی تھا لیکن رؤیا کی صداقت پر باقی چار امور نے مہر کر دی تھی اور اس چوتھے امر کی تعبیر یہ تھی کہ بدر اصل میں پندرہویں رات کے چاند کو کہتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے رویا میں ایک قسم کا اخفاء رکھنے کے لئے مارچ کی چودھویں تاریخ کا نام چودھویں کی مشابہت کی وجہ سے بدر رکھا اور یہ بتایا کہ یہ واقعہ چودہ تاریخ کو ہو گا۔چنانچہ وصیت با قاعدہ طور پر جو شائع ہوئی یعنی اس کے امین نواب محمد علی خان صاحب نے پڑھ کر سنائی تو چودہ تاریخ کو ہی