خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 129
خلافة على منهاج النبوة ۱۲۹ جلد اول صاحب نے چند سوالات لکھ کر حضرت خلیفہ ایچ کو دیے ہیں جن سے ایک شور پڑ گیا ہے۔اس کے بعد میں نے حضرت خلیفتہ امیج کو یہ رویا لکھ کر دی اور آپ نے وہ رقعہ پڑھ کر فرمایا کہ خواب پوری ہو گئی ہے اور ایک کاغذ پر مفصل واقعہ لکھ کر مجھے دیا کہ پڑھ لو۔جب میں نے پڑھ لیا تو لے کر پھاڑ دیا۔اس رؤیا کے گواہ مولوی سید سرور شاہ صاحب ہیں ان سے دریافت کیا جا سکتا ہے۔چنانچہ یہ رویا حرف بہ حرف پوری ہوئی اور ان سوالات کے جواب میں بعض آدمیوں کا نفاق ظاہر ہو گیا اور ایک خطر ناک آگ لگنے والی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اُس وقت اپنے فضل سے بجھا دی۔ہاں کچھ کڑیوں کے سرے جل گئے اور ان کے اندر ہی اندر یہ آگ دہکتی رہی۔اس خواب میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ یہ پھونس آخر جلا ہی دیا جائے گا اور بعد میں ایسا ہی ہوا۔مسئلہ خلافت کے متعلق تیسری آسمانی شہادت ابھی کسی جلسہ وغیرہ کی تجویز نہ تھی ہاں خلافت کے متعلق فتنہ ہو چکا تھا کہ میں نے رویا میں دیکھا کہ ایک جلسہ ہے اور اس میں حضرت خلیفہ اول کھڑے تقریر کر رہے ہیں اور تقریر مسئلہ خلافت پر ہے اور جو لوگ آپ کے سامنے بیٹھے ہیں ان میں سے کچھ مخالف بھی ہیں۔میں آیا اور آپ کے دہنے کھڑا ہو گیا اور کہا کہ حضور کوئی فکر نہ کریں ہم لوگ پہلے مارے جائیں گے تو پھر کو ئی شخص حضور تک پہنچ سکے گا ہم آپ کے خادم ہیں۔چنانچہ یہ خواب حضرت خلیفہ اول کو سنائی جب جلسہ کی تجویز ہوئی اور احباب بیرون جات سے مسئلہ خلافت پر مشورہ کے لئے جمع ہوئے اور چھوٹی مسجد کے صحن میں حضرت خلیفہ اول کھڑے ہوئے کہ تقریر فرمائیں تو میں آپ کے بائیں طرف بیٹھا تھا آپ نے اس رؤیا کی بناء پر مجھے وہاں سے اُٹھا کر دوسری طرف بیٹھنے کا حکم دیا اور اپنی تقریر کے بعد مجھے بھی کچھ بولنے کے لئے فرمایا اور میں نے ایک مضمون جس کا مطلب اس قسم کا تھا کہ ہم تو آپ کے بالکل فرمانبردار ہیں بیان کیا۔مسئلہ خلافت پر چوتھی آسمانی شہادت جب خلافت کا جھگڑا شروع ہوا تو گو مجھے وہ رویا بھی ہو چکی تھی جس کا ذکر