خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 128

خلافة على منهاج النبوة ۱۲۸ جلد اول مسئلہ خلافت کے متعلق دوسری آسمانی شہادت ۱۹۰۹ء کی بات ہے ابھی مجھے خلافت کے متعلق کسی جھگڑے کا علم نہ تھا صرف ایک صاحب نے مجھ سے حضرت خلیفہ امسیح خلیفہ اول کی خلافت کے قریباً پندرہویں دن کہا تھا کہ میاں صاحب اب خلیفہ کے اختیارات کے متعلق کچھ غور کرنا چاہیے جس کے جواب میں میں نے اُن سے کہا کہ یہ وقت وہ تھا کہ سلسلہ خلافت قائم نہ ہوا تھا جب کہ ہم نے بیعت کر لی تو اب خادم مخدوم کے اختیارات کیا مقرر کریں گے۔جس کی بیعت کی اُس کے اختیارات ہم کیونکر مقرر کر سکتے ہیں۔اس واقعہ کے بعد کبھی مجھ سے اس معاملہ کے متعلق کسی نے گفتگو نہ کی تھی اور میرے ذہن سے یہ واقعہ اُتر چکا تھا کہ جنوری ۱۹۰۹ء میں میں نے یہ رویا دیکھی کہ ایک مکان ہے بڑا عالیشان سب تیار ہے لیکن اُس کی چھت ابھی پڑنی باقی ہے۔کڑیاں پڑ چکی ہیں ان پر اینٹیں رکھ کر مٹی ڈال کر کوٹنی باقی ہے۔ان کڑیوں پر کچھ پھونس پڑا ہے اور اس کے پاس میر محمد اسحق صاحب کھڑے ہیں اور ان کے پاس میاں بشیر احمد اور شار احمد مرحوم ( جو پیر افتخار احمد صاحب لدھیانوی کا صاحبزادہ تھا ) کھڑے ہیں۔میر محمد اسحق صاحب کے ہاتھ میں ایک ڈبیہ دیا سلائیوں کی ہے اور وہ اس پھونس کو آگ لگانی چاہتے ہیں۔میں انہیں منع کرتا ہوں کہ ابھی آگ نہ لگائیں نہیں تو کڑیوں کو آگ لگنے کا خطرہ ہے۔ایک دن اس پھونس کو جلایا تو جائے گا ہی لیکن ابھی وقت نہیں۔بڑے زور سے منع کر کے اور اپنی تسلی کر کے میں وہاں سے کو ٹا ہوں لیکن تھوڑی دُور جا کر میں نے پیچھے سے کچھ آہٹ سنی اور منہ پھیر کر کیا دیکھتا ہوں کہ میر محمد اسحق صاحب دیا سلائی کی تیلیاں نکال کر اس کی ڈبیہ سے جلدی جلدی رگڑتے ہیں وہ نہیں جلتیں پھر اور نکال کر ایسا ہی کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جلد اس پھونس کو آگ لگا دیں۔میں اس بات کو دیکھ کر واپس بھا گا کہ ان کو روکوں لیکن میرے پہنچتے پہنچتے انہوں نے آگ لگا دی تھی۔میں اس آگ میں کود پڑا اور اسے میں نے بجھا دیا لیکن تین کڑیوں کے سرے جل گئے۔یہ خواب میں نے اُسی دن دو پہر کے وقت مولوی سید سرور شاہ صاحب کو سنائی جوسن کر ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ یہ خواب تو پوری ہوگئی ہے اور اُنہوں نے مجھے بتایا کہ میر محمد اسحق