خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 123
خلافة على منهاج النبوة ۱۲۳ جلد اول ضرورت تھی کہ وَلَا تَسْتَمْ مِنَ النَّاسِ أَصْحَابُ الصُّفَّةِ وَمَا أَدْرَاكَ مَا أَصْحَابُ الصُّفَّةِ تَرى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ۔(۱۳) اس وقت قادیان کو چھوڑ کر اگر لاہور کو مدینتہ امسیح نہ بنایا جانا ہوتا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آج سے تیس سال پہلے یہ کیوں دکھایا جاتا کہ قادیان کا نام قرآن شریف کے نصف میں لکھا ہوا ہے اور یہ دکھایا گیا کہ دنیا میں عزت والے تین گاؤں ہیں ایک مکہ، دوسرامد بینہ اور تیسرا قادیان - ۲۸ جن کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔پھر یہ الہام کیوں ہوتا کہ ” خدا قادیان میں نازل ہوگا ۲۹ اگر لاہور کو قادیان کے مقابلہ میں نہ کھڑا کیا جانا ہوتا تو اس طرح خصوصیت سے قادیان کا کیوں ذکر ہوتا۔66 (۱۴) اگر خاندانِ نبوت پر کوئی اعتراض کرنے والا نہ ہوتا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام الوصیت میں یہ کیوں تحریر فرماتے۔میری نسبت اور میرے اہل وعیال کی نسبت خدا نے استثناء رکھا ہے۔باقی ہر ایک مرد ہو یا عورت ان کو شرائط کی پابندی لازم ہوگی اور شکایت کرنے والا منافق ہوگا “۔۳۰ پس اس فتنہ کو کوئی روک نہیں سکتا تھا اور کیونکر کوئی روک سکتا جب کہ خدا نے مقدر کر رکھا تھا اس لئے ایسا ہونا ضروری تھا اور ہوا۔مگر جس طرح کسی کا ہاتھ بیماری کی وجہ سے خراب ہو جاتا ہے تو وہ مجبوراً اسے کٹا دیتا ہے لیکن اس ہاتھ کٹانے پر وہ خوش نہیں ہوتا ہاں اس کو اس بات کی خوشی ہوتی ہے کہ ہاتھ کٹانے سے باقی جسم تو بیچ گیا ہے اسی طرح ہمیں بھی اس بات کا در دتو ہے کہ ایک حصہ جماعت کا کٹ گیا ہے مگر خوشی بھی ہے کہ باقی جماعت تو اس کے مصر اثر سے بچ گئی ہے۔اب میں وہ شہادتیں پیش کرتا ہوں جو خدا تعالیٰ نے مجھے اس معاملہ کے متعلق دی ہیں۔گو دل چاہتا تھا کہ یہ فتنہ نہ اُٹھتا مگر ان الہامات اور رؤیا کی صداقت کیونکر ظاہر ہوتی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس فتنہ کی نسبت قبل از وقت دکھلائی گئی تھیں اور میرے لئے تو ان تمام فسادات میں یہ الہامات ہی خضر راہ کا کام دینے کے لئے کافی تھے مگر میرے ربّ نے مجھے خود بھی آگاہ کرنا پسند فرمایا اور یہ اس کا ایک ایسا احسان ہے جس کا شکر میں جس قدر