خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 115
خلافة على منهاج النبوة ۱۱۵ جلد اوّل علیہ السلام کے دنیا میں آنے کا فائدہ ہی کیا ہوا۔اس میں شک نہیں کہ ہم میں سے کچھ لوگ کمزور بھی ہیں لیکن کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت منافقوں کا گر وہ نہیں تھا؟ اور کیوں بعض اشخاص کو جو کہ آپ کے صحابہ کے گروہ میں شامل رہتے تھے اب رضی اللہ عنہ نہیں کہا جاتا حتی کہ ان کو صحابی بھی نہیں کہا جاتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ منافق تھے۔وہ زبان سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتے تھے لیکن ان کا دل نہیں مانتا تھا۔اسی طرح اب ہم کہتے ہیں کہ جو دل سے مسیح موعود علیہ السلام کے احکام کو مانتے رہے اور مانتے ہیں ان کو ہم آپ کے صحابہ میں سے کہیں گے اور جو نہیں مانیں گے ان کو نہیں کہیں گے۔کیا عبد اللہ بن ابی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں رہتا تھا اور آپ کے صحابہ میں شامل نہیں تھا ؟ مگر اس کو صحابہ میں اس لئے شامل نہیں کیا جاتا کہ وہ منافق تھا۔اسی طرح اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ رہنے والوں میں سے کوئی ٹھو کر کھائے تو یہ اُس کا اپنا قصور ہے نہ کہ اس کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں رہنا اس ٹھو کر کے نقصان سے اُسے بچا سکتا ہے۔پھر میں کہتا ہوں کہ یہ ہمارا قیاس ہی قیاس نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد ساری جماعت کو ٹھو کر نہیں لگی بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا تھا۔سپردم بتو ماية خویش را تو دانی حساب کم و بیش را مسیح موعود علیہ السلام اللہ تعالیٰ کو اپنا سرمایہ پیش کرتے ہیں۔کیوں ؟ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کرے اور یہ خدا تعالیٰ نے خود فرمایا کہ تم اپنی جماعت کو میرے سپر د کر دو ہم اس کی حفاظت کریں گے۔اب اگر منکرین خلافت کی بات مان لی جائے تو خدا تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کی اچھی حفاظت کی کہ اس کا پہلا اجماع ضلالت پر کروا دیا۔مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کو خدا کے سپرد کیا تھا خدا نے اس جماعت کو نورالدین کے سپر د کر دیا۔جس کی نسبت ( نَعُوذُ بِاللهِ ) کہا جاتا ہے کہ گمراہی تھی۔کیا خدا تعالیٰ کو یہ طاقت نہ تھی کہ نورالدین سے جماعت کو چھڑ الیتا اور گمراہ نہ ہونے دیتا ؟ طاقت تھی لیکن اس نے ایسا نہیں کیا جس سے ثابت ہوا کہ جماعت کا اجماع غلطی پر نہ تھا بلکہ خدا تعالیٰ کی منشاء کے ماتحت تھا۔