خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 112
خلافة على منهاج النبوة ۱۱۲ جلد اول فضل سے چن لیا ہے تو میں کس طرح اسے نا پسند کرتا ؟ کیا اگر تمہارا کوئی دوست تمہیں کوئی نعمت دے اور تم اس کو لے کر نالی میں پھینک دو تو تمہارا دوست خوش ہو گا ؟ اور تمہاری یہ حرکت درست ہوگی ؟ ہر گز نہیں۔تو اگر خدا تعالیٰ نعمت دے تو کون ہے جو اس کو ہٹا سکے۔جب دنیا کے دوستوں کی نعمتوں کو کوئی رڈ نہیں کرتا بلکہ بڑی عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو میں خدا تعالیٰ کی دی ہوئی اس نعمت کو کس طرح رڈ کر دوں کیونکہ خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو رڈ کرنے والوں کے بڑے خطرناک انجام ہوتے رہے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ان کی قوم کے لوگ طور پر گئے۔خدا تعالیٰ نے اُن کو فرمایا تھا کہ آؤ ہم تم سے کلام کریں۔وہاں جب زلزلہ آیا تو وہ ڈر گئے اور کہنے لگے کہ ہم خدا کی باتوں کو نہیں سننا چاہتے اور واپس چلے آئے۔خدا تعالیٰ نے ان کو اس نعمت کی ناقدری میں یہ سزا دی کہ فرمایا اب تم سے کوئی شرعی نبی بر پا نہیں کیا جائے گا بلکہ تمہارے بھائیوں میں سے کیا جائے گا۔تو خدا تعالیٰ کی نعمت کو رڈ کرنے والوں کی نسبت جب میں یہ دیکھ چکا ہوں تو پھر خدا کی نعمت کو میں کس طرح رڈ کر دیتا۔مجھے یقین تھا کہ وہ خدا جس نے مجھے اس کام کے لئے چنا ہے وہ خود میرے پاؤں کو مضبوط کر دے گا اور مجھے استقامت اور استقلال بخشے گا۔پس اگر مجھے خلیفہ ماننے والے بھی سب کے سب نہ ماننے والے ہو جاتے اور کوئی بھی مجھے نہ مانتا اور ساری دنیا میری دشمن اور جان کی پیاسی ہو جاتی جو کہ زیادہ سے زیادہ یہی کرتی کہ میری جان نکال لیتی تو بھی میں آخری دم تک اس بات پر قائم رہتا اور کبھی خدا تعالیٰ کی نعمت کے رڈ کرنے کا خیال بھی میرے دل میں نہ آتا کیونکہ یہ غلطی بڑے بڑے خطرناک نتائج پیدا کرتی ہے۔امام حسنؓ کا واقعہ امام حسن سے یہی غلطی ہوئی تھی جس کا بہت خطرناک نتیجہ نکلا۔گو یہ غلطی ان سے ایک خاص اعتقاد کی بناء پر ہوئی اور وہ یہ کہ بیٹا باپ کے بعد خلیفہ نہیں ہو سکتا۔جیسا کہ حضرت عمرؓ کا اعتقاد تھا اور میرا بھی یہی اعتقاد ہے اور یہی وجہ تھی کہ حضرت عمرؓ نے اپنے بعد انتخاب خلیفہ کے متعلق فرمایا کہ میرے بیٹے سے اس میں مشورہ لیا جائے لیکن اس کو خلیفہ بننے کا حق نہ ہو گا۔حضرت علیؓ نے اپنے بیٹے امام حسنؓ کو اپنے بعد خلیفہ مقرر کیا۔ان کی نیت نیک تھی کیونکہ اور کوئی ایسا انسان نہ تھا جسے خلیفہ بنایا جا سکتا