خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 113

خلافة على منهاج النبوة جلد اول اور جو خلافت کا اہل ہوتا۔معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حسنؓ بھی حضرت عمرؓ کا سا ہی خیال رکھتے تھے یعنی یہ کہ باپ کے بعد بیٹا خلیفہ نہیں ہونا چاہیے اس لئے اُنہوں نے بعد میں معاویہؓ سے صلح کر لی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے بعد امام حسین اور ان کا سب خاندان شہید ہو گیا۔ایک دفعہ اُنہوں نے خدا کی نعمت کو چھوڑا۔خدا تعالیٰ نے کہا اچھا اگر تم اس نعمت کو قبول نہیں کرتے تو پھر تم میں سے کسی کو یہ نہ دی جائے گی۔چنانچہ پھر کوئی سید کبھی بادشاہ نہیں ہوا سوائے چھوٹی چھوٹی حکومتوں کے سیدوں کو حقیقی بادشاہت اور خلافت کبھی نہیں ملی۔امام حسنؓ نے خدا کی دی ہوئی نعمت واپس کر دی جس کا نتیجہ بہت تلخ نکلا۔تو خدا تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت کو ر ڈ کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔اس شخص کو خدا کی معرفت سے کوئی حصہ نہیں ملا اور وہ خدا کی حکمتوں کے سمجھنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتا جو مجھے کہتا ہے کہ آپ خلافت کو چھوڑ دیں۔اس نادان کو کیا معلوم ہے کہ اس کے چھوڑنے کا کیا نتیجہ ہو گا۔پس حضرت عثمان کی طرح میں نے بھی کہا کہ جو قبا مجھے خدا تعالیٰ نے پہنائی ہے وہ میں کبھی نہیں اُتاروں گا خواہ ساری دنیا اس کے چھینے کے درپے ہو جائے۔پس میں اب آگے ہی آگے بڑھوں گا خواہ کوئی میرے ساتھ آئے یا نہ آئے۔مجھے خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ ابتلاء آئیں گے مگر انجام اچھا ہو گا۔پس کوئی میرا مقابلہ کر کے دیکھ لے خواہ وہ کوئی ہو اِنشَاءَ اللهُ تَعَالٰی میں کامیاب رہوں گا اور مجھے کسی کے مقابلہ کی خدا کے فضل سے کچھ بھی پرواہ نہیں ہے۔بعض باتیں ایسی ہیں جو کہ میں خود ہی سنا سکتا ہوں کسی کو کیا معلوم ہے کہ مجھ پر کتنا بڑا بوجھ رکھا گیا ہے بعض دن تو مجھ پر ایسے آتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ شام تک میں زندہ نہیں رہوں گا۔اُس وقت میں یہی خیال کرتا ہوں کہ جتنی دیر زندہ ہوں اتنی دیر کام کئے جاتا ہوں۔جب میں نہ رہوں گا تو خدا تعالیٰ کسی اور کو اس کام کے لئے کھڑا کر دے گا مجھے اپنی زندگی تک اس کام کی فکر ہے جو میرے سپر د خدا تعالیٰ نے کیا ہے بعد کی مجھے کوئی فکر نہیں ہے۔یہ سلسلہ اللہ تعالیٰ نے ہی چلایا ہے اور وہی اس کا انتظام کرتا رہے گا۔