خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 111
خلافة على منهاج النبوة جلد اول خط پر خود آپ کے پاس آئے ہیں۔ابھی یہ بات اُنہوں نے کہی ہی تھی کہ مولوی صاحب نے ایک ایسی حرکت کی جس سے ہم نے سمجھا کہ یہ ہمیں ٹالنا چاہتے ہیں۔ممکن ہے کہ ان کا مطلب یہ نہ ہو اس وقت انہیں کم از کم یہ تو خیال کرنا چاہیے تھا کہ ہم گوا سے نہیں مانتے لیکن جماعت کے ایک حصہ نے اس کو امام تسلیم کیا ہے۔ایک آدمی جس کا نام بگا ہے وہ کوٹھی کے باہر اُن کو نظر آیا اُنہوں نے فوراً اُس کو آواز دی کہ آمیاں بگا تو لا ہور سے کب آیا ؟ کیا حال ہے؟ اور اُس سے اِدھر اُدھر کی باتیں شروع کر دیں۔یہ دیکھ کر ہم اُٹھ کر چلے آئے۔میں نے ان کی اس حرکت سے یہ نتیجہ نکالا کہ شاید وہ اس معاملہ کے متعلق گفتگو کرنی ہی نہیں چاہتے۔وَاللَّهُ أَعْلَمُ۔ان کی یہ منشاء تھی یا نہ لیکن میرے دوسرے ساتھیوں کا بھی ایسا ہی خیال تھا اس لئے ہم چلے آئے۔اتحاد کی کوشش ان باتوں کے علاوہ میں نے قوم کے اتحاد اور اتفاق کے قائم رکھنے کے لئے اور بھی تجویزیں کیں۔جب حضرت خلیفہ امسیح کی حالت بہت نازک ہوگئی اور مجھے معلوم ہوا کہ بعض لوگ مجھے فتنہ گر کہتے ہیں تو میں نے ارادہ کر لیا کہ میں قادیان سے چلا جاؤں اور جب اس بات کا فیصلہ ہو جائے تو پھر آ جاؤں گا۔میں نواب صاحب کی کوٹھی سے جہاں حضرت خلیفتہ المسح بستر علالت پر پڑے تھے گھر آیا اپنی بیٹھک کے دروازے کھول کر نماز پڑھی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے میرے مولیٰ ! اگر میں فتنہ کا باعث ہوں تو مجھے اس دنیا سے اُٹھا لیجئے یا مجھے توفیق دیجئے کہ میں قادیان سے کچھ دنوں کے لئے چلا جاؤں۔دعا کرنے کے بعد پھر میں نواب صاحب کی کوٹھی پر آیا۔مگر اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہی ڈالا کہ ہم ذمہ دار ہوں گے تم یہاں سے مت جاؤ۔میں ایک دفعہ قسم کھا چکا ہوں اور پھر اُسی ذات کی قسم کھاتا ہوں جس کے قبضہ میں میری جان ہے اور جو اس گھر ( مسجد ) کا مالک ہے اور میں اسی کی قسم کھا کر کہتا ہوں جو آسمان اور زمین کا حاکم ہے اور جس کی جھوٹی قسم لعنت کا باعث ہوتی ہے اور جس کی لعنت سے کوئی جھوٹا بچ نہیں سکتا کہ میں نے کسی آدمی کو کبھی نہیں کہا کہ مجھے خلیفہ بنانے کے لئے کوشش کرو اور نہ ہی کبھی خدا تعالیٰ کو میں نے یہ کہا کہ مجھے خلیفہ بنا ئیو۔پس جب کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس کام کے لئے خود اپنے