خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 103

خلافة على منهاج النبوة ١٠٣ جلد اول کر کسی شخص کو اس اپنے مقرر کردہ لباس میں نہ دیکھے تو کہے کہ یہ تو آدمی ہی نہیں ہوسکتا تو کیا وہ بیوقوف نہیں ہے؟ ضرور ہے۔اسی طرح اگر کوئی چند نبیوں کے خلیفوں کو دیکھ کر کہے کہ ایسے ہی خلیفے ہو سکتے ہیں ان کے علاوہ اور کوئی خلیفہ نہیں ہو سکتا تو کیا اس کی بات کسی عقلمند کے نزد یک ماننے کے قابل ہے؟ ہرگز نہیں۔اس کو چاہیے کہ خلیفہ کے لفظ کو دیکھے اور اس پر غور کرے۔اس وقت خلیفہ کے لفظ کے متعلق عربی علم سے ناواقفیت کی وجہ سے لوگوں کو غلطی لگی ہے۔خلیفہ اس کو کہتے ہیں۔(۱) جو کسی کا قائم مقام ہو۔(۲) خلیفہ اس کو کہتے ہیں جس کا کوئی قائم مقام ہو۔(۳) خلیفہ وہ ہے جو احکام و اوامر کو جاری کرتا اور ان کی تعمیل کراتا ہے۔پھر خلیفے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک تو اصل کے مرنے کے بعد ہوتے ہیں اور ایک اس کی موجودگی میں بھی ہوتے ہیں۔مثلاً وائسرائے شہنشاہ کا خلیفہ ہوتا ہے۔اب اگر کوئی وائسرائے کو کہے کہ چونکہ اسے دین سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لئے یہ شنہشاہ کا خلیفہ نہیں ہو سکتا تو یہ اس کی بہت بڑی غلطی ہے کیونکہ وہ جس بادشاہ کا نائب ہے اس کے پاس صرف حکومت ہی ہے اس لئے وائسرائے حکومت میں ہی اس کا خلیفہ ہے نہ کہ دین میں۔تو یہ ایک موٹی بات ہے جس کو بعض لوگ نہیں سمجھے یا نہیں سمجھنا چاہتے۔دوسرا اعتراض اور اس کا جواب پھر یہ کہتے ہیں کہحضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت مسیح اسرائیلی کے مثیل تھے اس لئے ان کے خلفاء بھی ایسے ہی ہونے چاہئیں جیسے مسیح اسرائیلی کے ہوئے لیکن چونکہ حضرت مسیح اسرائیلی کے بعد خلافت کا سلسلہ ثابت نہیں ہے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد بھی کوئی خلیفہ نہیں ہونا چاہیے۔اول تو یہ بات ہی بہت عجیب ہے ہم تو یہ مانتے ہیں کہ حضرت مسیح نے صلیب پر وفات نہیں پائی اور صلیب کے واقعہ کے بعد اسی سال تک زندہ رہے ہیں لیکن انجیل جس سے ان کے بعد کی خلافت کا سلسلہ نہیں نکلتا وہ تو ان کی صلیب کے واقعہ تک کے حالات زندگی کی تاریخ ہے۔پس اس سے خلافت کا کس طرح پتہ لگ سکتا ہے۔یہ تو ویسی ہی بات ہے کہ کوئی شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب براہین احمدیہ پیش کر کے کہے کہ اس میں تو خلافت کا کوئی ذکر نہیں اور نہ ہی کسی خلیفہ کا اس سے پتہ چلتا ہے اس لئے آپ کے