خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 102

خلافة على منهاج النبوة جلد اول درزی کو کہتے ہیں اور کوئی شخص جو درزی کا کام نہیں کرتا وہ خلیفہ کس طرح ہو سکتا ہے۔اسی طرح ایک شخص مدرسہ میں جائے ( پہلے زمانہ میں مانیٹر کو خلیفہ کہتے تھے ) اور لڑکوں کو ایک لڑکے کو خلیفہ کہتے سنے اور باہر آ کر کہہ دے کہ خلیفہ تو اُسے کہتے ہیں جولڑکوں کا مانیٹر ہوتا ہے۔اس لئے وہ شخص جولڑکوں کا مانیٹر نہیں وہ خلیفہ نہیں ہوسکتا خلیفہ کے لئے تو لڑکوں کا ہونا شرط ہے۔اسی طرح ایک شخص دیکھے کہ آدم علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے خلیفہ بنایا اور اُن کے لئے فرشتوں کو حکم دیا کہ سجدہ کرو۔وہ کہے کہ خلیفہ تو وہی ہو سکتا ہے جس کو سجدہ کرنے کا حکم فرشتوں کو ملے ورنہ نہیں ہوسکتا۔اسی طرح ایک اور شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء کو دیکھے جن کے پاس سلطنت اور حکومت تھی تو کہے کہ خلیفہ تو اس کو کہتے ہیں جس کے پاس سلطنت ہو اس کے سوا اور کوئی خلیفہ نہیں ہوسکتا کیونکہ خلیفہ کے لئے سلطنت کا ہونا شرط ہے۔لیکن ایسا کہنے والے اتنا نہیں سمجھتے کہ خلیفہ کے لفظ کے معنی کیا ہیں۔اس کے یہ معنی ہیں کہ جس کا کوئی خلیفہ کہلائے اس کا کام وہ کرنے والا ہو۔اگر کوئی درزی کا کام کرتا ہے تو وہی کام کرنے والا اس کا خلیفہ ہے ہو۔اور اگر کوئی طالب علم کسی استاد کی غیر حاضری میں اس کا کام کرتا ہے تو وہ اس کا خلیفہ ہے۔اسی طرح اگر کوئی کسی نبی کا کام کرتا ہے تو وہ اس نبی کا خلیفہ ہے۔اگر خدا نے نبی کو بادشاہت اور حکومت دی ہے تو خلیفہ کے پاس بھی بادشاہت ہونی چاہیے اور خدا خلیفہ کو ضرور حکومت دے گا۔اور اگر نبی کے پاس ہی حکومت نہ ہو تو خلیفہ کہاں سے لائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چونکہ خدا تعالیٰ نے دونوں چیزیں یعنی روحانی اور جسمانی حکومتیں دی تھیں اس لئے ان کے خلیفہ کے پاس بھی دونوں چیزیں تھیں۔لیکن اب جب کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حکومت نہیں دی تو اس کا خلیفہ کس سے لڑتا پھرے کہ مجھے حکومت دو۔ایسا اعتراض کرنے والے لوگوں نے خلیفہ کے لفظ پر غور نہیں کیا۔اگر کوئی شخص یہاں بیٹھے ہوئے آدمیوں کی پگڑیوں ، ٹوپیوں اور کپڑوں کو دیکھ کر یہ لکھ لے کہ آدمی وہی ہوتے ہیں جن کی پگڑیاں ، ٹوپیاں اور کپڑے ان کی طرح ہوتے ہیں اور باہر جا