خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 101
خلافة على منهاج النبوة 1+1 جلد اول ويُعَلِّمُهُمُ الكتب وَالْحِكْمَةَ " یعنی یہ کہ (۱) خدا کی آیات لوگوں پر پڑھے۔(۲) ان کا تزکیہ نفس کرے۔(۳) انہیں کتاب سکھائے۔(۴) ان کو حکمت سکھائے۔میں نے یہ بھی اس تقریرہ میں بتایا تھا کہ یہ چاروں کام نبی کے دنیا کی کوئی انجمن نہیں کر سکتی۔یہ وہی شخص کر سکتا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نبی کے بعد مقرر کیا جاتا ہے اور جسے خلیفہ کہا جاتا ہے۔اس موقع پر یہ باتیں نہیں ذکر کی جاتیں۔ہاں چند موٹے موٹے اعتراضات میں بیان کر کے ان کے جواب دیتا ہوں اور یہ بھی بتاتا ہوں کہ کیوں میں نے دلیری اور استقلال کو ہاتھ سے نہ دیا اور اپنی بات پر مضبوط جما رہا۔بعض لوگ میری نسبت یہ کہتے ہیں کہ اس نے کیوں وسعت حوصلہ سے کام لے کر یہ نہ کہہ دیا کہ میں خلیفہ نہیں بنتا۔ایسا کہنے والا سمجھتا ہے کہ خلافت بڑے آرام اور راحت کی چیز ہے مگر اس احمق کو یہ معلوم نہیں کہ خلافت میں جسمانی اور دنیا وی کسی قسم کا سکھ نہیں ہے۔اب میں یہ بتا تا ہوں کہ کیوں میں نے جرات اور دلیری سے کام لے کر اس بار کو اُٹھایا اور وہ کیا چیز تھی جس نے مجھے قوم کے دوٹکڑے ہوتے دیکھ کر ایک جگہ پر قائم رہنے دیا اور وہ کونسا ہاتھ تھا جس نے مجھے ایک جگہ کھڑا کئے رکھا۔اس وقت تو چاروں طرف کے لوگ موجود ہیں لیکن ایک وہ وقت تھا کہ بہت قلیل حصہ جماعت کا بیعت میں شامل ہوا تھا۔سوال یہ ہے کہ اُس وقت جماعت کے اتحاد کی خاطر میں نے کیوں نہ اپنی بات چھوڑ دی ؟ اور اتحاد قائم رکھا اس لئے آج میں اس بات کو بیان کروں گا جس نے مجھے مضبوط رکھا لیکن اس سے پہلے میں چند اور باتیں بیان کرتا ہوں۔پہلا اعتراض اور اس کا جواب ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ خلیفہ وہ ہوتا ہے جو بادشاہ ہو یا ماً مور۔تم کون ہو؟ بادشاہ ہو؟ میں کہتا ہوں۔نہیں۔ما مور ہو؟ میں کہتا ہوں نہیں۔پھر تم خلیفہ کس طرح ہو سکتے ہو خلیفہ کے لئے بادشاہ یا ماً مور ہونا شرط ہے۔یہ اعتراض کرنے والے لوگوں نے خلیفہ کے لفظ پر ذرا بھی تدبر نہیں کیا۔یہ ایسی ہی بات ہے کہ ایک شخص درزی کی دکان پر جائے اور دیکھے کہ ایک لڑکا اپنے استاد کو کہتا ہے ” خلیفہ جی۔وہ وہاں سے آ کر لوگوں کو کہنا شروع کر دے کہ خلیفہ تو ,,