خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 100
خلافة على منهاج النبوة جلد اول نے تیری کمر توڑ دی تھی اُتار دیا ہے تو جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ اس بوجھ سے ٹوٹنے کے قریب تھی تو اور کون ہے جو یہ بار اُٹھا کر سلامت رہ سکے۔لیکن وہی خدا جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بوجھ کو ہلکا کیا تھا اور اس زمانہ میں بھی اپنے دین کی اشاعت کے لئے اُس نے ایک شخص کو اس بوجھ کے اُٹھانے کی توفیق دی وہی اس نبی کے بعد اس کے دین کو پھیلانے والوں کی کمریں مضبوط کرتا ہے۔میری طبیعت پہلے بھی بیمار رہتی تھی مگر تم نے دیکھا کہ میں اُس دن کے بعد کسی کسی دن ہی تندرست رہا ہوں اور کم ہی دن مجھ پر صحت کے گزرے ہیں۔اگر مجھے خلافت کے لینے کی خوشی تھی اور میں اس کی امید لگائے بیٹھا تھا تو چاہئے تھا کہ اُس دن سے میں تندرست اور موٹا ہوتا جا تا۔اگر منکران خلافت کے خیال کے مطابق چھ سال میں اسی کے حاصل کرنے کی کوشش میں رہا ہوں تو اب جب کہ یہ حاصل ہوگئی ہے تو مجھے خوشی سے موٹا ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔بچپن میں کبھی والدہ صاحبہ مجھے پتلا ڈ بلا دیکھ کر گھبرا تیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے کہ جب اس کو خوشی حاصل ہوگی تو موٹا ہو جائے گا اور مثال کے طور پر خواجہ صاحب کا ذکر فرماتے کہ وکالت کے امتحان کے پاس کرنے سے پہلے یہ بھی ڈبلے ہوتے تھے جب سنا کہ وکالت پاس کر لی ہے تو چند دنوں میں ہی موٹے ہو گئے تو اگر مجھے خلافت ایک حکومت مل گئی ہے اور اس کے لینے میں میری خوشی تھی تو چاہیے تھا کہ میں موٹا اور تندرست ہوتا جاتا لیکن میرے پاس بیٹھنے والے اور پاس رہنے والے جانتے ہیں کہ مجھ پر کیسے کیسے سخت دن آتے ہیں اور اپنی تکلیف کو میں ہی جانتا ہوں۔مسئلہ خلافت خلافت کا مسئلہ کوئی پیچیدہ مسئلہ نہیں ہے۔میں نے ۱۲ را پریل ۱۹۱۴ء کو جو تقریر کی تھی ( یہ تقریر منصب خلافت کے نام سے چھپ چکی ہے) اس میں قرآن شریف کی ایک آیت سے میں نے بتایا تھا کہ خلیفہ کا کیا کام ہوتا ہے۔خلیفہ کے معنی ہیں کسی کے پیچھے آ کر وہی کام کرنے والا جو اس سے پہلے کیا کرتا تھا۔اس کی پہچان کے لئے جس کا کوئی خلیفہ ہوگا اس کے اصل کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کیا کام کرتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کام یہ بتایا ہے يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ