خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 99

خلافة على منهاج النبوة ۹۹ جلد اول سنا جاتا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مجھے حکومت کی خواہش تھی اس لئے جماعت میں تفرقہ ڈال کر لوگوں سے بیعت لے لی ہے لیکن بیعت لینے کے وقت کی حالت میں تمہیں بتاتا ہوں۔جس وقت بیعت ہو چکی تو میرے قدم ڈگمگا گئے اور میں نے اپنے اوپر ایک بہت بڑا بوجھ محسوس کیا۔اُس وقت مجھے خیال آیا کہ آیا اب کوئی ایسا طریق بھی ہے کہ میں اس بات سےکوٹ سکوں۔میں نے بہت غور کی اور بہت سوچا لیکن کوئی طرز مجھے معلوم نہ ہوئی۔اس کے بعد بھی کئی دن میں اسی فکر میں رہا تو خدا تعالیٰ نے مجھے رویا میں بتایا کہ میں ایک پہاڑی پر چل رہا ہوں۔دُشوار گزار راستہ دیکھ کر میں گھبرا گیا اور واپس کو ٹنے کا ارادہ کیا جب میں نے کو ٹنے کے لئے پیچھے مڑ کر دیکھا تو پچھلی طرف میں نے دیکھا کہ پہاڑ ایک دیوار کی طرح کھڑا ہے اور کوٹنے کی کوئی صورت نہیں۔اس سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ اب تم آگے ہی آگے چل سکتے ہو پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔میں نے اس بات پر غور کیا ہے کہ نبی پر چالیس سال کے بعد نبوت کیوں نکہ معرفت نازل ہوتی ہے؟ اس سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ چالیس سال کے بعد تھوڑے سال ہی انسان کی زندگی ہوتی ہے اس لئے ان میں مشکلات کو برداشت کر کے نبی گزارہ کر لیتا ہے لیکن اگر جوانی میں ہی اُسے نبوت مل جائے تو بہت مشکل پڑے اور اتنے سال زندگی کے بسر کرنے نہایت دشوار ہو جائیں کیونکہ یہ کام کوئی آسان نہیں ہے۔دیکھنے میں آگ کا انگارہ بڑا خوشنما معلوم ہوتا ہے مگر اس کی خلافت کی اہمیت حقیقت وہی جانتا ہے جس کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔اسی طرح خلافت بھی دوسروں کو بڑی خوبصورت چیز معلوم ہوتی ہے اور نادان دیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ خلیفہ بننے والے کو بڑا مزا ہو گیا ہے لیکن انہیں کیا معلوم ہے کہ جو چیز ان کی آنکھوں میں بڑی خوبصورت نظر آتی ہے دراصل ایک بہت بڑا بوجھ ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے بغیر کسی کی طاقت ہی نہیں کہ اسے اُٹھا سکے۔خلیفہ اس کو کہتے ہیں کہ جو ایک پہلے شخص کا کام کرے اور خلیفہ جس کا قائم مقام ہوتا ہے اس کی نسبت اللہ تعالیٰ نے فرمایا ووضعنا عنك ورُرَكَ الذي انقَضَ ظَهْرَكَ " کہ ہم نے تیرا وہ بوجھ جس