خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 98
خلافة على منهاج النبوة ۹۸ جلد اول پہلی اہم بات اب میں ایک بات بیان کرنا شروع کرتا ہوں اور وہ خلافت کے متعلق ہے۔شاید کوئی کہے کہ خلافت کے بڑے جھگڑے سنتے رہے ہیں اور یہاں بھی کل اور پرسوں سے سُن رہے ہیں آخر یہ بات ختم بھی ہوگی یا نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ پہلے جو باتیں تم خلافت کے متعلق سن چکے ہو وہ تو تمہیں ان لوگوں نے سنائی ہیں جو راہرونے کی طرح ایک واقعہ کو دیکھنے والے تھے۔دیکھو! ایک بیمار کی حالت اس کا تیمار دار بھی بیان کرتا ہے مگر بیمار جو اپنی حالت بیان کرتا ہے وہ اور ہی ہوتی ہے۔اسی طرح دوسرے لوگوں نے اپنی سمجھ اور عقل کے مطابق تمہیں باتیں سنائی ہیں مگر میں جو کچھ تمہیں سناؤں گا وہ آپ بیتی ہوگی جگ بیتی نہیں ہوگی۔دوسرے کے درد اور تکلیف کو خواہ کوئی کتنا ہی بیان کرے لیکن اس حالت کا وہ کہاں اندازہ لگا سکتا ہے جو مریض خود جانتا ہے اس لئے جو کچھ مجھ پر گزرا ہے اُس کو میں ہی اچھی طرح سے بیان کرسکتا ہوں۔دیکھنے والوں کو تو یہ ایک عجیب بات معلوم ہوتی ہو گی کہ کئی لاکھ کی جماعت پر حکومت مل گئی مگر خدا را غور کرو کیا تمہاری آزادی میں پہلے کی نسبت کچھ فرق پڑ گیا ہے؟ کیا کوئی تم سے غلامی کرواتا ہے؟ یا تم پر حکومت کرتا ہے؟ یا تم سے ماتحتوں ،غلاموں اور قید یوں کی طرح سلوک کرتا ہے؟ کیا تم میں اور ان میں جنہوں نے خلافت سے روگردانی کی ہے کوئی فرق ہے؟ کوئی بھی فرق نہیں لیکن نہیں ایک بہت بڑا فرق بھی ہے اور وہ یہ کہ تمہارے لئے ایک شخص تمہارا در درکھنے والا ، تمہاری محبت رکھنے والا ، تمہارے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے والا ، تمہاری تکلیف کو اپنی تکلیف جاننے والا ، تمہارے لئے خدا کے حضور دعائیں کرنے والا ہے۔مگر ان کے لئے نہیں ہے۔تمہارا اسے فکر ہے ، درد ہے اور وہ تمہارے لئے اپنے مولیٰ کے حضور تڑپتا رہتا ہے لیکن ان کے لئے ایسا کوئی نہیں ہے۔کسی کا اگر ایک بیمار ہو تو اس کو چین نہیں آتا لیکن کیا تم ایسے انسان کی حالت کا اندازہ کر سکتے ہو جس کے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بیمار ہوں۔پس تمہاری آزادی میں تو کوئی فرق نہیں آیا ہاں تمہارے لئے ایک تم جیسے ہی آزاد پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہو گئی ہیں۔