خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 95

خلافة على منهاج النبوة ۹۵ جلد اول برکات خلافت تقریر جلسه سالانه ۲۷ دسمبر ۱۹۱۴ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میں نے کچھ ضروری باتیں آپ لوگوں کے سامنے بیان کرنی ہیں۔ان میں سے ایک وہ بات بھی ہے جو میرے خیال میں احمدیت کے لئے ہی نہیں بلکہ اسلام کے قیام کا واحد ذریعہ ہے اور جس کے بغیر کوئی انسان اللہ تعالیٰ تک پہنچ ہی نہیں سکتا اور نہ ہی کوئی مسلمان مسلمان ہو سکتا ہے مگر کوئی انسان خدا تعالیٰ کی رحمت اور فضل کے بغیر اس کو حاصل بھی نہیں کر سکتا۔اس کے علاوہ کچھ اور بھی ضروری باتیں ہیں مگر اس سے کم درجہ پر ہیں۔میں نے ارادہ کیا ہے اگر اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہوا اور اُس کی رحمت مد اور معاون ہوئی تو انشَاءَ اللهُ وہ بات جو نہایت ضروری ہے اور جس کے پہنچانے کی مدت سے مجھے تڑپ تھی کل بیان کروں گا۔آج ارادہ ہے کہ درمیانی باتیں جو اس سے کم درجہ پر ہیں مگر ان کا پہنچانا بھی ضروری ہے وہ پہنچا دوں۔اس ضروری بات کو کل پر رکھنے سے میری یہ بھی غرض ہے کہ جو نعمت آسانی سے مل جاتی ہے اور جس کے لئے محنت نہیں کرنی پڑتی اُس کی قدر نہیں ہوتی۔پس جو لوگ کل تک یہاں اس بات کو سننے کے اشتیاق میں رہیں گے وہی اس کے سننے کے حقدار ہوں گے۔چونکہ مجھے کھانسی کی وجہ سے تکلیف ہے اس لئے اگر میری آواز سب تک نہ پہنچے تو بھی سه لوگ صبر سے بیٹھے رہیں۔اگر انہیں آواز نہ پہنچے گی تو ثواب تو ضرور ہی ہو جائے گا۔بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ کان میں پڑیں بھی تو اثر نہیں ہوتا مگر اس مقام کا اثر ہو جاتا ہے جہاں کوئی بیٹھا ہوتا ہے۔باتیں تو اکثر لوگ سنتے ہیں مگر کیا سارے ہی پاک ہو جاتے ہیں ؟ نہیں۔