خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 96

خلافة على منهاج النبوة ۹۶ جلد اول - تو معلوم ہوا کہ نیک باتوں کے سننے والے کو ہدایت ہو جانا ضروری بات نہیں ہے۔پھر ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ ایک شخص کو کسی پاک مقام پر جانے کی وجہ سے ہلا کسی دلیل کے ہدایت ہوگئی ہے تو اگر بعض لوگوں تک آواز نہ پہنچے اور وہ بیٹھے رہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے اخلاص کی وجہ سے ہی بغیر باتیں سننے کے انہیں ہدایت دے دے گا۔اب میں اپنی اصل بات کی طرف آنے سے پیشتر چند ایسی باتیں بیان کرتا ہوں جن کا آجکل چرچا ہو رہا ہے اور جو نہایت ضروری ہیں۔میں کل یہاں آ رہا تھا چند لوگوں نے جو کہ دیہاتی زمیندار معلوم ہوتے تھے پہلی بات مجھے اس ملاح یا مجھے اس طرح سلام کیا کہ يَا رَسُولَ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ۔اس سے معلوم ہوا کہ وہ جانتے ہی نہیں کہ رسول کیا ہوتا ہے۔میری یہ عادت نہیں ہے کہ کسی آدمی کو خصوصیت سے اُس کی غلطی جتلاؤں۔اصل بات یہ ہے کہ مجھے شرم آ جاتی ہے۔ایک تو اس لئے کہ اُس کو اپنی غلطی پر شرمندگی اُٹھانی پڑے گی دوسرے خود مجھے دوسرے کو ملامت کرنے پر شرم محسوس ہوتی ہے اس لئے میں کسی کی غلطی کو عام طور پر بیان کر دیا کرتا ہوں اور کسی خاص آدمی کی طرف اشارہ نہیں کرتا سوائے اُن خاص آدمیوں کے جن سے خاص تعلق ہوتا ہے ایسے آدمیوں کو میں علیحدگی میں بتا دیتا ہوں۔سو یہ بات اچھی طرح یا د رکھو کہ رسول رسول ہی ہوتا ہے ہر ایک شخص رسول نہیں ہو سکتا۔ہاں ہمیں خدا تعالیٰ نے یہ فخر بخشا ہے کہ ایک رسول کی خدمت کا شرف عطا کیا ہے۔تو تم لوگ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کا جو درجہ ہوتا ہے وہ رسولوں کو دو اور دوسرے کسی کو ان کے درجہ میں شامل نہ کرو۔اللہ کے رسولوں کے نام قرآن شریف میں درج ہیں اور جو اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے اپنا رسول بھیجا ہے اُس کا نام بھی آپ لوگ جانتے ہیں باقی سب ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہیں۔ہاں خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کی ترقی کے لئے خلافت کا سلسلہ جاری کیا ہے اور جو انسان اس کام کے لئے چنا گیا ہے وہ درحقیقت تمہارا بھائی ہی ہے پس اُس کو رسول کہنا ہرگز ہرگز جائز نہیں ہے۔بعض لوگ گھٹنوں یا پاؤں کو ہاتھ لگاتے ہیں گو وہ یہ کام شرک کی نیت سے نہیں بلکہ محبت اور عقیدت کے جوش میں کرتے ہیں لیکن ایسے کاموں کا دوسری بات