خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 92
خلافة على منهاج النبوة ۹۲ جلد اول پنجم: فی الحال اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ انجمن میں دوممبر زائد ہوں کیونکہ بعض اوقات ایسی دقتیں پیدا ہو جاتی ہیں کہ ان کا تصفیہ نہیں ہوتا اور اب اختلاف کی وجہ سے ایسی دقتوں کا پیدا ہونا اور بھی قرین قیاس ہے علاوہ ازیں مجھے بھی جانا پڑتا ہے اور وہاں وقتیں پیدا ہو جاتی ہیں اس لئے دو بلکہ تین ممبر اور ہونے چاہئیں اور یہ دونمبر عالم ہونے چاہئیں۔ششم : جہاں کہیں فتنہ ہو ہمارے دوستوں کو چاہیے کہ وہاں جا کر دوسروں کو سمجھائیں اور اس کو دور کریں۔اس کے لئے اپنی عقلوں اور علموں پر بھروسہ نہ کریں بلکہ خدا تعالیٰ کی توفیق اور فضل کو مقدم کریں اور اس کے لئے کثرت سے دعائیں کریں۔اپنے اپنے علاقوں میں پھر کر کوشش کرو اور حالات ضروریہ کی مجھے اطلاع دیتے رہو۔یہ وہ امور ہیں جن پر آپ لوگوں کو غور کرنا چاہیے۔ان میں فیصلہ اس طرح پر ہو کہ مولوی سید محمد احسن صاحب یہاں تشریف رکھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفۃ اسیح بھی آپ کا اعزاز فرماتے تھے اور وہ اپنے علم وفضل اور سلسلہ کی خدمات کی وجہ سے اس قابل ہیں کہ ہم ان کی عزت کریں وہ اس جلسہ شوریٰ کے پریذیڈنٹ ہوں میں اس جلسہ میں نہ ہوں گا تا کہ ہر شخص آزادی سے بات کر سکے۔جو بات باہمی مشورہ اور بحث کے بعد طے ہو وہ لکھ لی جائے اور پھر مجھے اطلاع دو۔دعاؤں کے بعد خدا تعالیٰ جو میرے دل میں ڈالے گا اُس پر عمل درآمد ہو گا۔تم کسی معاملہ پر غور کرتے وقت اور رائے دیتے وقت یہ ہرگز خیال نہ کرو کہ تمہاری بات ضرور مانی جائے بلکہ تم خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے سچے دل سے ایک مشورہ دے دوا گر وہ غلط بھی ہوگا تو بھی تمہیں تو اب ہوگا لیکن اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کی بات ضرور مانی جائے تو پھر اس کو کوئی ثواب نہیں۔میری ان تجاویز کے علاوہ نواب صاحب کی تجاویز پر غور کیا جائے ، شیخ یعقوب علی صاحب نے بھی کچھ تجاویز لکھی ہیں ان میں سے تین کے پیش کرنے کی میں نے اجازت دی ہے ان پر بھی فکر کی جائے۔پھر میں کہتا ہوں کہ مولوی صاحب کا جو درجہ ان کے علم اور رتبہ کے لحاظ سے ہے وہ تم جانتے ہو حضرت صاحب بھی ان کا ادب کرتے تھے پس ہر شخص جو بولنا چاہے وہ مولوی