خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 91

خلافة على منهاج النبوة ۹۱ جلد اول درج ہے اس کے آگے پیچھے حضرت صاحب کے اپنے الہامات درج ہیں اور اب بھی وہ کاپی موجود ہے یہ ایک لمبی خواب ہے اس میں میں نے دیکھا کہ ایک پارسل میرے نام آیا ہے محمد چراغ کی طرف سے آیا ہے اس پر لکھا ہے محمود احمد پر میشر اس کا بھلا کرے۔خیر اس کو کھولا تو وہ روپوں کا بھرا ہوا صندوقچہ ہو گیا۔کہنے والا کہتا ہے کہ کچھ تم خود رکھ لو ، کچھ حضرت صاحب کو دے دو، کچھ صدر انجمن احمدیہ کو دے دو‘ پھر حضرت صاحب کہتے ہیں کہ محمود کہتا ہے کہ کشفی رنگ میں آپ مجھے دکھائے گئے اور چراغ کے معنی سورج سمجھائے گئے اور محمد چراغ کا یہ مطلب ہوا کہ محمد جو کہ سورج ہے اس کی طرف سے آیا ہے۔غرض یہ ایک سات سال کی رؤیا ہے حضرت صاحب کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کسی وقت صدرانجمن احمدیہ کو روپیہ میری معرفت ملے گا ہمیں جو کچھ ملتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہی ملتا ہے۔پس جو روپیہ آتا ہے وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی بھیجتے ہیں۔حضرت صاحب کو دینے سے یہ مراد معلوم ہوتی ہے کہ اشاعتِ سلسلہ میں خرچ کیا جائے۔قرآن شریف کی ایسی آیات کے صحابہ نے یہی معنی کئے ہیں۔یہ ایک سچی خواب ہے ورنہ کیا چھ سال پہلے میں نے ان واقعات کو اپنی طرف سے بنالیا تھا اور خدا تعالیٰ نے اسے پورا بھی کر دیا۔نَعُوذُ بِالله مِنْ ذَلِكَ پس ہر قسم کے چندے ان لوگوں کو جو میرے مبائعین ہیں میرے پاس بھیجنے چاہئیں۔سوم : جب تک انجمن کا قطعی طور پر فیصلہ نہ ہو اشاعت اسلام اور زکوۃ کا روپیہ میرے ہی پاس آنا چاہیے۔جو واعظین کے اخراجات اور بعض دوسری وقتی ضرورتوں کیلئے خرچ ہو گا جو اشاعت اسلام سے تعلق رکھتی ہیں یا مصارف زکوۃ سے متعلق ہیں۔چهارم : مجلس شوری کی ایسی حالت ہو کہ ساری جماعت کا اس میں مشورہ ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے زمانہ میں ایسا ہی ہوتا تھا کیا وجہ ہے کہ روپیہ تو قوم سے لیا جائے اور اس کے خرچ کرنے کے متعلق قوم سے پوچھا بھی نہ جائے۔یہ ہوسکتا ہے کہ بعض معاملات میں تخصیص ہو والا ساری جماعت سے مشورہ ہونا چاہیے۔سوچنا یہ ہے کہ اس مشورہ کی کیا تدبیر ہو۔