خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 85
خلافة على منهاج النبوة ۸۵ جلد اول 66 بھیجا جاتا وہ چند روز کے بعد اس کی شکائتیں کر کے اُس کو واپس کر دیتے۔حضرت عمر فرمایا کرتے تھے جب تک حکومت میں فرق نہ آئے ان کی مانتے جاؤ۔آخر جب ان کی شرارتیں حد سے گزرنے لگیں تو حضرت عمر نے ایک گورنر جن کا نام غالباً ابن ابی لیلی تھا اور جن کی عمر ۱۹ برس کی تھی کوفہ میں بھیجا۔جس وقت یہ وہاں پہنچے تو وہ لوگ لگے چہ میگوئیاں کرنے کہ عمر کی عقل ( نَعُوذُ بِ اللهِ ) ماری گئی جو ایک لڑکے کو گورنر کر دیا۔اور اُنہوں نے تجویز کی کہ د دگر به کشتن روز اوّل، پہلے ہی دن اس گورنر کو ڈانٹنا چاہیے اور انہوں نے مشورہ کر کے یہ تجویز کی کہ پہلے ہی دن اس سے اس کی عمر پوچھی جائے۔جب دربار ہوا تو ایک شخص بڑی متین شکل بنا کر آگے بڑھا اور بڑھ کر کہا کہ حضرت! آپ کی عمر کیا ہے ؟ ابن ابی لیلی نے نہایت سنجیدگی سے جواب دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صحابہ کے لشکر پر اُسامہ کو افسر بنا کر شام کی طرف بھیجا تھا تو جو اُس وقت اُن کی عمر تھی اُس سے میں دو سال بڑا ہوں ( اُسامہ کی عمر اُس وقت سترہ سال کی تھی اور بڑے بڑے صحابہ اُن کے ماتحت کئے گئے تھے ) کوفہ والوں نے جب یہ جواب سنا تو خاموش ہو گئے اور کہا کہ اس کے زمانہ میں شور نہ کرنا۔اس سے یہ بھی حل ہو جاتا ہے کہ چھوٹی عمر والے کی بھی اطاعت ہی کریں جب وہ امیر ہو۔حضرت عمرؓ جیسے انسان کو سترہ سال کے نوجوان اسامہ کے ماتحت کر دیا گیا تھا۔میں بھی اسی رنگ میں جواب دیتا ہوں کہ میری عمر تو ابن ابی لیلی سے بھی سات برس زیادہ ہے۔ایک اور اعتراض کا جواب ایک اور اعتراض کرتے ہیں مگر خدا تعالیٰ نے اس کا جواب بھی تیرہ سو سال سے پہلے ہی دے دیا ہے۔کہتے ہیں و شاد رُهُم في الآخرِ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہے خلافت کہاں سے نکل آئی۔لیکن یہ لوگ یا درکھیں کہ حضرت ابو بکر پر جب زکوۃ کے متعلق اعتراض ہوا تو وہ بھی اسی رنگ کا تھا کہ خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةٌ " تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہے اب وہ رہے نہیں اور کسی کا حق نہیں کہ زکوۃ وصول کرے جسے لینے کا حکم تھا وہ فوت ہو گیا ہے۔حضرت ابوبکر نے یہی جواب دیا کہ اب میں مخاطب ہوں۔اسی کا ہم آہنگ ہو کر اپنے