خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 84

خلافة على منهاج النبوة ۸۴ میں یہ ایک مصلحت سے کہتا ہوں جلد اول پھر زکوۃ کے متعلق کہا گیا کہ مرتد ہونے سے بچانے کے لئے ان کو معاف کر دو۔اُنہوں نے جواب دیا کہ اگر یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹ باندھنے کی ایک رسی بھی دیتے تھے تو وہ بھی لوں گا۔اور اگر تم سب مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ اور مرتدین کے ساتھ جنگل کے درندے بھی مل جائیں تو میں اکیلا اُن سب کے ساتھ جنگ کروں گا۔یہ عزم کا نمونہ ہے پھر کیا ہوا ؟ تم جانتے ہو خدا تعالیٰ نے فتوحات کا ایک دروازہ کھول دیا۔یا د رکھو جب خـ سے انسان ڈرتا ہے تو پھر مخلوق کا رُعب اس کے دل پر اثر نہیں کر سکتا۔خدا شرک کا مسئلہ کیسے سمجھا دیا ھے اللہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے شرک کا مسئلہ خوب سمجھا دیا ہے۔ایک رؤیا کے ذریعہ اس کو حل کر دیا۔میں نے دیکھا کہ میں مقبرہ بہشتی میں گیا ہوں۔واپس آتے وقت ایک بڑا سمندر دیکھا جو پہلے نہ تھا اس میں ایک کشتی تھی اس میں بیٹھ گیا دو آدمی اور ہیں ایک جگہ پہنچ کر کشتی چکر کھانے لگی۔اس سمندر میں سے ایک سرنمودار ہوا۔اس نے کہا کہ یہاں ایک پیر صاحب کی قبر ہے تم ان کے نام ایک رقعہ لکھ کر ڈال دو تا کہ یہ کشتی صحیح سلامت پار نکل جائے۔میں نے کہا کہ یہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔وہ آدمی جو ساتھ ہیں ان میں سے کسی نے کہا کہ جانے دو کیا حرج ہے رقعہ لکھ کر ڈال دو۔جب بچ جائیں گے تو پھر تو بہ کر لیں گے۔میں نے کہا ہرگز نہیں ہوگا۔اس پر اُس نے چُھپ کر خود رقعہ لکھ کر ڈالنا چاہا میں نے دیکھ لیا تو پکڑ کر پھاڑ نا چاہا۔وہ چھپاتا تھا آخر اس کشمکش میں سمندر میں گر پڑے مگر میں نے وہ رقعہ لے کر پھاڑ ڈالا اور پھر کشتی میں بیٹھ گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ کشتی اس بھنور سے نکل گئی۔اس کھلی کھلی ہدایت کے بعد میں خدا کی پناہ چاہتا ہوں کہ اس کی مخلوق سے ڈروں۔میں دعا کرتا ہوں کہ یہ کشتی جس میں میں اب سوار ہوں اس بھنور سے نکل جائے اور مجھے یقین ہے کہ ضرور نکل جائے گی۔چھوٹی عمر سے منکرین خلافت یہ بھی کہتے ہیں کہ مرچھوٹی ہے۔اس پر مجھے ایک تاریخی واقعہ یاد آ گیا۔کوفہ والے بڑی شرارت کرتے تھے جس گورنر کو وہاں