خزینۃ الدعا — Page 84
خَزِينَةُ الدُّعَاءِ 33 مناجات رسول ﷺ آپ کسبحان اللہ کہتے یعنی اللہ پاک ہے۔(مسلم کتاب صلاة المسافرين باب استحباب تطويل القرآة) حضرت وائل بن حجر بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو سورۃ فاتحہ کی تلاوت کرتے سُنا وَلَا الضَّالِّينَ پڑھنے کے بعد آپ نے لمبی آواز کے ساتھ کہا آمین یعنی قبول فرما۔(ابوداود كتاب الصلوۃ باب التامين وراء الامام ) حمید حضرت ابو میسرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کوسورۃ بقرہ کی دعائیہ آیات کے آخر پر جبرائیل نے آمین کہنے کی تلقین کی۔(الاتقان جزاص ۱۰۷۔سیوطی بیروت ) حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کے سامنے سورۃ رحمان کی تلاوت کی۔صحابہ نے خاموشی سے تلاوت سنی آپ نے فرمایا تم سے تو جن قوم ہی اچھی تھی جو اس سورۃ کی تلاوت سنتے وقت ہر دفعہ فبأي آلاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبن (یعنی تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ ) کے جواب میں کہتے تھے لَا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ وَلَكَ الْحَمْدُ یعنی اے ہمارے رب ہم تیری نعمتوں میں سے کسی چیز کی تکذیب نہیں کرتے۔اور سب تعریفیں تیرے ( ترمذی کتاب النفسير سورة الرحمان ) ☆ لئے ہیں۔حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں کہ جب سورۃ واقعہ کی یہ آیت اتری فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ یعنی اپنے عظیم رب کی تسبیح بیان کرو تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اسے رکوع میں رکھ لو یعنی رکوع میں سُبحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ کہا کرو (اس آیت کی تلاوت پر بھی سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِیم پڑھنا تعامل سے ثابت ہے۔) اسی طرح جب نبی کریم پر آیت سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى اتری تو آپ نے فرمایا کہ اسے سجدہ میں پڑھا کرو۔(ابوداؤد الصلوۃ باب ما يقول الرجل في ركوعه و سجوده ) سورۃ الملک کی آخری آیت فَمَنْ يَأْتِيَكُمْ بِمَاءٍ مَّعِيْن کے جواب میں الله رَبُّ الْعَالَمِينَ ( یعنی اللہ تمام جہانوں کا رب ہے ) کہنا مستحب ہے۔( تفسیر جلالین سورۃ الملک) 85