خزینۃ الدعا — Page 247
خَرينَةُ الدُّعَاءِ 67 مشکل سوچ کر دل نکل جاتا ہے قابو سے اے مری جاں کی پناہ فوج ملائک کو اتار اَدْعِيَةُ الْمَهْدِى ( در مشین اردو صفحہ 149-146) اے میرے پیارے فدا تجھ پہ ہر ذرہ مرا پھیر دے میری طرف اے سارباں جگ کی مہار ہے کچھ خبر لے تیرے کوچہ میں یہ کس کا شور خاک میں ہوگا یہ سرگرتو نہ آیا بن کے یار فضل کے ہاتھوں سے اب اس وقت کر میری مدد کشتی اسلام تا ہو جائے اس طوفاں سے پار میرے سقم و عیب سے اب کیجئے قطع نظر تانہ خوش ہو دشمنِ دیں جس پہ ہے لعنت کی مار میرے زخموں پر لگا مرہم کہ میں رنجور ہوں میری فریادوں کو سن میں ہوگیا زار ونزار دیکھ سکتا ہی نہیں میں ضعف دین مصطفیٰ مجھ کو کر اے میرے سلطاں کامیاب و کامگار کیا سلائے گا مجھے تو خاک میں قبل از مراد یہ تو تیرے پر نہیں امید اے میرے حصار یا الٹی فضل کر اسلام پر اور خود بیچا اس شکستہ ناؤ کے بندوں کی اب سن لے پکار قوم میں فسق وفجور و معصیت کا زور ہے چھار رہا ہے ابر یاس اور رات ہے تاریک وتار ایک عالم مرگیا ہے تیرے پانی کے بغیر 249