خزینۃ الدعا

by Other Authors

Page 206 of 267

خزینۃ الدعا — Page 206

ورو حزينَةُ الدُّعَاءِ 26 ادْعِيَةُ المَهْدِى تو تمام آدمی رونے لگ جاتے اور آنسو جاری ہو جاتے کیونکہ حضرت صاحب کی آواز میں اس قدر گداز ہوتا تھا کہ انسان ضرور رونے لگ جاتے تھے۔(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص 166 روایت نمبر 747) - امرواقعہ یہ ہے کہ نبی کریم کی دعا ( جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیعت تو بہ میں شامل فرمایا ) ایسی گہری تاثیر رکھتی ہے کہ اب بھی دہرائے جانے کے وقت یہی کیفیت سوز وگداز اکثر دیکھی گئی ہے۔دعا یہ ہے:۔”اے میرے رب میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں تو میرے گناہ بخش کہ تیرے سوا کوئی بخشنے والا نہیں۔“ اس روایت کی مزید تائید حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان الفاظ سے بھی ہوتی ہے آپ نے فرمایا کہ بیعت کے وقت تو بہ کے اقرار میں ایک برکت پیدا ہوتی ہے۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 174) رضائے باری کے حصول کی دعا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کے نام مکتوب میں دعا کی تلقین کرتے ہوئے تحریر فرمایا۔دعا بہت کرتے رہو اور عاجزی کو اپنی خصلت بناؤ۔جوصرف رسم اور عادت کے طور پر زباں سے دعا کی جاتی ہے کچھ بھی چیز نہیں۔جب دعا کرو تو بجر صلوۃ فرض کے یہ دستور رکھو کہ اپنی خلوت میں جاؤ اور اپنی زبان میں نہایت عاجزی کے ساتھ جیسے ایک ادنیٰ سے ادنیٰ بندہ ہوتا ہے خدائے تعالیٰ کے حضور میں دعا کرو۔اے رب العالمین ! تیرے احسانوں کا میں شکر نہیں کر سکتا۔تو نہایت رحیم وکریم ہے اور تیرے بے نہایت مجھ پر احسان ہیں میرے گناہ بخش تا میں ہلاک نہ ہو جاؤں۔میرے دل میں اپنی خالص محبت ڈال۔تا مجھے زندگی حاصل ہو اور میری پردہ پوشی فرما اور مجھ سے ایسے 208